خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 851
خطبات طاہر جلد 17 851 خطبہ جمعہ 4 دسمبر 1998ء مفت دوائیں تقسیم کرتے ہیں، بیمار گھروں میں جا کر بھی ان کو پوچھتے ہیں تو اس کو معمولی کام نہ سمجھیں، یہ بخشش کا ایک بہانہ ہے اور جواللہ کی رضا کی خاطر اس کے بندوں کی تکلیفیں دور کرنے کے لئے محنت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو کبھی بھلاتا نہیں کیونکہ اس کی تعلیم یہ ہے کہ تھوڑے پر شکر کروتو اللہ کے مقابل پر تو بندے کی ہر خدمت ہی تھوڑی ہے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ بندوں سے تو کہے کہ تھوڑے پر شکر کرو اور آپ تھوڑے پر شکر نہ کرے۔آپ بھی شکر کرتا ہے اور بندے کی ہر خدمت تھوڑی ہے اس کے مقابل پر کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتی۔تو گویا کہ ہر خدمت پر شکر کرتا ہے اور یہ بھی اسی شکر کی مثال ہے ایک کانٹا ہٹانے پر بھی خدا شکر کرتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرنا یہ ہے۔ایک اور حدیث حضرت ابو ہریرہ ہی کی لی گئی ہے ابن ماجه كِتَابُ الزُّهْدِ بَابُ الْوَرَعِ وَالتَّقْوَى - ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : آنحضرت صلی شما یہ تم نے ایک بار ان کو مخاطب کر کے فرمایا : اے ابو ہریرہ ! تقویٰ اور پر ہیز گاری اختیار کر۔تو سب سے بڑا عبادت گزار بن جائے گا۔“ یعنی تقویٰ اور پر ہیز گاری ہو تو پھر عبادت نصیب ہوا کرتی ہے۔اگر تقویٰ نہ ہو تو عبادت کیسی۔عبادت کی جان تقویٰ ہے، تقویٰ نہ ہو تو عبادت ہو ہی نہیں سکتی۔ناممکن ہے۔جتنا تقویٰ انسان کا بڑھے گا اتنا اس کی عبادت کا معیار بڑھے گا۔فرمایا تقویٰ اور پرہیز گاری اختیار کر تو سب سے بڑا عبادت گزار بن جائے گا۔اب حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے بڑے عبادت گزار کیسے بن سکتے تھے ؟ سب سے بڑے عبادت گزار تو رسول اللہ صل لا کی تم تھے مگر آپ صلی ہی ہم عبادت گزار سب سے بڑے بنے اس لئے تھے کہ آپ مالی شما یہ تم تقوی میں سب سے بڑے تھے۔تو تو کا محاورہ ایک محاورہ ہے، مراد ہے جو بھی تقویٰ میں سب سے آگے ہوگا وہ عبادت گزاری میں بھی سب سے زیادہ ہو جائے گا اور یہ بات اپنے نفس کو جانتے ہوئے آپ صلی یا یہ تم کر رہے تھے یہ خیالی فرضی بات نہیں ہے۔تو حضور اکرم صلی یہ تم بسا اوقات اپنی خوبیوں کو چھپانے کی خاطر اس رنگ میں کلام فرماتے تھے کہ عامۃ الناس کو پیغام بھی پہنچ جائے اور پتا بھی نہ چلے کہ رسول اللہ صلی ہی تم اپنی ہی بات کر رہے ہیں۔اب یہ دیکھ لیں لازماً رسول اللہ صلی ا یہ تم اپنی مثال دے رہے ہیں ورنہ ابو ہریرہ بے چارے میں کیا مجال تھی کہ وہ تقویٰ میں سب دُنیا سے آگے بڑھ جائے جبکہ تقویٰ میں سب سے بڑھا ہوا اور عبادت میں سب سے بڑھا ہوا سامنے موجود تھا، وہی بات کر رہا تھا۔پھر فرمایا: