خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 828 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 828

خطبات طاہر جلد 17 828 خطبہ جمعہ 27 نومبر 1998ء جو کچھ عطا کیا ہے اس پر قانع رہو، اسی پر راضی رہو اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے گا، اموال میں برکت دے گا، تھوڑے میں بھی مزہ رکھ دے گا۔زیادہ کا مزہ تو اور بھی زیادہ ہو گا مگر اس میں وہ آگ نہیں جلے گی کہ اگر اور نہ ملا تو ہم کیا کریں گے۔کیا ہم اسی طرح مزید کی طلب کی آگ میں جلتے رہیں گے۔یہ مومنوں والا معاملہ نہیں ہے اور اس کا راز اس بات میں ہے کہ جو تھوڑے پر راضی ہو جائے وہ زیادہ پر راضی کیوں نہیں ہوگا۔جو تھوڑے پر بھی خوش ہو جائے اسے زیادہ دو گے تو اور بھی خوش ہوگا۔پس تھوڑے پر راضی ہونا اس بات کا راز ہے کہ آپ کو تسکین قلب نصیب ہو جائے۔اللہ کی طرف سے جو بھی ملتا ہے اس پر راضی ہو جائیں اور مزید کے لئے کوشش کریں کیونکہ اللہ کہتا ہے کہ کوشش کرو مگر رضا کی طلب کے لئے کوشش نہیں کرنی ، اپنے دل کی رضا کی خاطر نہیں، اللہ کی رضا کی خاطر۔ان دونوں چیزوں میں بہت بڑا فرق ہے۔جب آپ اللہ کی عطا میں تھوڑے سے راضی ہو جاتے ہیں تو پھر مزید کی کوشش کی کیا ضرورت ہے۔اس لئے ضرورت ہے کہ اللہ چاہتا ہے کہ تم اور بھی طلب کرو، اور بھی محنت کرو کیونکہ یہ دنیا میں جتنا کاروبار رحیمیت کا ہے اللہ نے در حقیقت مومن بندوں کے لئے پیدا فرمایا ہے۔جب وہ طلب کرتے ہیں تو اپنی رضا چاہتے ہوئے نہیں، اللہ کی رضا چاہتے ہوئے اور ان معنوں میں اللہ کی رضا ہی ان کی رضا بن جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ جو مضمون بیان فرمایا ہے شکر کا اور تبتل کا اس تعلق میں میں نے اب بعض احادیث بھی چنی ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں ان میں یہی مضمون، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مضمون اس طرح بیان ہوا ہے کہ ہمیں دکھائی دینے لگتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کہاں سے لیا تھا۔اب یہ بڑی دلچسپ بات ہے کہ جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات پر میں غور کرتا ہوں تو اس سے ملتی جلتی حدیثیں یاد آتی ہیں اور جب حدیثوں کو غور سے پڑھوں تو صاف سمجھ آجاتی ہے کہ یہ منبع تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی حکمت کا اور وہ حدیثیں پڑھیں تو قرآن ان کا منبع نظر آتا ہے غرض یہ کہ سلسلہ وار بندوں سے بات شروع ہو کے خدا تک جا پہنچتی ہے۔اب اس میں دیکھیں الزهد والرقائق کے باب میں جو مسلم نے روایت پیش کی ہے اس میں حضرت رسول کریم صلی ا یہ تم نے کیا فرمایا ہے۔حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے روایت ہے کہ حضرت صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ اکہ تم نے فرمایا :