خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 829 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 829

خطبات طاہر جلد 17 829 خطبہ جمعہ 27 نومبر 1998ء مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے اس کا معاملہ سارے کا سارا ہی خیر پر مبنی ہے۔“ عجیب ہے مومن اس میں شر کا کوئی بھی پہلو نہیں یا اس کی زندگی میں کسی تکلیف کا کوئی پہلو نظر ہی نہیں آتا۔اور یہ خصوصیت مومن کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں۔جب اسے آزمائش پہنچتی ہے تو وہ شکر کرتا ہے۔“ اب دیکھ لیں شکر تو ہوتا ہی دل کے اطمینان پر ہے لیکن جب کسی کو ابتلا میں ڈالا جائے تو وہ شکر کرتا ہے۔کیسے شکر کر سکتا ہے اس وقت ، اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ میرے اللہ نے مجھے اس قابل سمجھا ہے کہ میری محبت کا امتحان لے۔اور اس کے شکر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ صرف زبان سے ہی شکر نہیں کرتا بلکہ عملاً اس امتحان میں پورا اتر کر شکر ادا کرتا ہے۔تو تکلیفیں اور مصیبتیں اور دُنیا کے کئی قسم کے ابتلا کسی مومن کو کوئی گہرا دکھ ان معنوں میں نہیں پہنچا سکتے کہ اس کی زندگی عذاب بن جائے اور محض ایک اضطراب ہو جائے۔جب بھی توجہ اس طرف رہے گی کہ خدا نے یہ سب کچھ دیا تھا، اسی کی چیز ہے اسی نے آزمایا ہے اور مجھے آزمائش کے قابل سمجھا ہے۔اب یہ مضمون بھی شکر کا مضمون خصوصاً طلبہ کو سمجھ آ سکتا ہے۔بعض طلبہ کو جو نکمے ہوں امتحان میں بیٹھنے ہی نہیں دیا جاتا اور جب بیٹھنے کے لئے فہرست میں نام آجائے طالب علم کا تو خوشی سے اچھلتا کودتا ہے کہ بلا لیا ہے ہمیں۔یہی مضمون نوکریاں تلاش کرنے والوں پر بھی اطلاق پاتا ہے جب وہ انٹرویو کے لئے جگہ جگہ دھکے کھاتے اور درخواستیں دیتے پھرتے ہیں تو ان کو جب ٹیسٹ کے لئے بلایا جاتا ہے یہ ابتلا ہے، امتحان کے لئے بلایا جاتا ہے تو خوشی سے اچھلتے ہیں کہ دیکھو جی ہمارے نام چٹھی آگئی ہے کہ آ کے امتحان دو۔کامیابی کی بات ہی کوئی نہیں ہور ہی صرف امتحان کی بات ہے لیکن اُمید ہے کہ اس امتحان کے نتیجہ میں کامیاب ہو جائیں گے۔تو جو دل میں ایک طمع لگی ہوئی ہے اور ایک اُمید پر بھروسہ ہے کہ ہم شاید کامیاب ہو جائیں۔اس کی خوشی ہے جس میں وہ اچھلتا ہے۔تو جب مومن کو اللہ تعالیٰ کسی امتحان میں مبتلا کرتا ہے تو یہ خوشی ہے جو امتحان کا دور اس پر آسان کر دیتی ہے۔اور دوسرے یہ بھی بات یادرکھیں کہ امتحان کے لئے بلانے والا یہ ضرور دیکھتا ہے کہ امتحان میں شامل ہونے کے قابل ضرور ہے اگر قابل نہ ہو تو اسے نہیں بلایا جاتا۔تو مومن یہ سمجھتا ہے کہ میرے مولیٰ نے مجھے قابل سمجھا ہے اور جب خدا قابل سمجھتا ہے تو کتنا ہی تلخ امتحان ہو اس پر پورا اترنا چاہئے۔اگر اللہ قابل سمجھے اور آپ امتحان کا واویلا