خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 827 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 827

خطبات طاہر جلد 17 827 خطبہ جمعہ 27 نومبر 1998ء سے آئے گی۔یہ وہ محبوب ہے جو اپنے ڈھونڈنے والے کی طرف اس کی رفتار سے بہت زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے۔پس اسے ان معنوں میں ڈھونڈو، اس سنجیدگی کے ساتھ ڈھونڈو، اس کامل یقین کے ساتھ ڈھونڈو کہ اگر میں اس کی طرف گیا تو وہ میری طرف زیادہ تیزی سے آئے گا اور بعینہ یہی مضمون ہے جو آنحضرت صلی ای ایم نے بارہا مختلف طریق پر ہم پر کھولا ہے۔ساتھ ہی یہ تنبیہ کر دی: ” بتوں میں وفانہیں اس کو ڈھونڈ وور نہ دنیا میں جو دل لگانے والے ساتھ لگے رہتے ہیں وہ تم سے بیوفائی کریں گے اور جب وہ چھوڑ کر چلے جائیں گے تو پھر نہتے اور خالی اور حسرت زدہ رہ جاؤ گے اور اسی بتوں سے دل لگانے کے مضمون کو اب ایک ڈرانے کے لحاظ سے بھی کھول دیا ہے، یہ جو فر ما یا تھا کہ اللہ سے ڈرو اور پھر جو مرضی کرو یہ ڈرکن معنوں میں ہے۔اس جائے پر عذاب سے کیوں دل لگاتے ہو یہ دنیا تو حقیقت میں عذاب کی جاہے۔دیکھنے میں خوبصورت ، دلکش مگر وہ بہت ہے جو وفا نہیں کیا کرتے۔دوزخ ہے یہ مقام یہ بستاں سرا نہیں ( رسالة تشحید الا ذبان قادیان جلد 3 نمبر 13 صفحہ:485،ماہ دسمبر 1908ء) یہ دنیا تو ایک دوزخ ہے اس کے پیچھے جتنا بھا گو گے، جتنا اس کی طلب کرتے چلے جاؤ گے ایک آگ سی دل میں بھڑکتی رہے گی اور وہ آگ بڑھتی چلی جائے گی۔پس آج دنیا کا حال دیکھ لیں جتنے بھی افراد ہوں یا جتنی بھی قو میں ہوں دُنیا طلبی میں ان کے اندر ایک بھڑ کن لگی ہوئی ہوتی ہے اور جو کبھی بھی کم نہیں ہوتی جتنا مرضی کر لیں یعنی دُنیا کی خاطر جو چاہیں کر گزریں، جتنا ان کو حاصل ہو جائے وہ آگ نہیں کم ہوگی۔هَلْ مِن مزید (ق:31) کی جو جہنم کی آواز ہے وہ ان کے دل سے ہمیشہ اٹھتی رہے گی۔پس زیادہ سے زیادہ اپنانے کی خواہش افراد میں بھی ہوا کرتی ہے اور قوموں میں بھی ہوا کرتی ہے اور مغرب کی ایک مثال ہمارے سامنے ہے ان کی مزید طلب کرنے کی آگ مزید سے کم نہیں ہوتی ، بجھتی نہیں ، بڑھتی چلی جاتی ہے اور جو غریب ممالک ہیں ان کو ملتا تو نہیں مگر آگ ضرور ہے، وہ بیچارے مزید حاصل کرنے کے شوق میں ٹکریں تو بہت مارتے ہیں مگر صرف آگ ہی بھڑکتی ہے مزید حاصل کرنے کی تمنا پوری نہیں ہوتی لیکن یہ تمنا پوری ہو سکتی ہے اگر اللہ سے مزید طلب کیا جائے اور اس کا طریق یہ ہے کہ اس کا شکر ادا کرو وہ تمہیں زیادہ دے گا۔