خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 72
خطبات طاہر جلد 17 72 خطبہ جمعہ 23 جنوری 1998ء یہ وہ مضمون ہے جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں اور اب میں کھول رہا ہوں بات کو۔میں آپ سے کہتا تھا کہ اپنے نفس پر اتنی سختی نہ ڈالیں جو آپ کی طاقت سے بڑھ کر ہو وہ آپ کی طاقتوں کو توڑ دے گی اور اس روحانی سفر کے لائق نہیں رہیں گے۔یہ اب مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ ملے ہیں: ولیکن میں ہر ایک کو یہ صلاح نہیں دیتا کہ ایسا کرے اور نہ میں نے اپنی مرضی ایسا کیا۔“ از خود اپنے لئے کوئی سختی تجویز کرنے کی آپ کو صلاحیت ہی نہیں ہے۔اللہ بہتر جانتا ہے آپ کی صلاحیتیں کیا ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں میں نے ہرگز از خود اپنے لئے اپنی مرضی سے یہ مشقتیں برداشت نہیں کیں۔یادر ہے کہ میں نے کشف صریح کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر جسمانی سختی کشی ( سختی کو کھینچنا یعنی سختی اٹھانا ) کا حصہ آٹھ یا نو ماہ تک لیا اور بھوک اور پیاس کا مزہ چکھا اور پھر اس طریق کو علی الدوام بجالانا چھوڑ دیا اور کبھی کبھی اس کو اختیار بھی کیا۔( کتاب البریۃ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ: 197 تا200 حاشیہ) توعلى الدوام جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اتنی غیر معمولی سختی برداشت کی ہے یہ حکم الہی کے تابع تھی جو آپ کی استطاعت کو جانتا تھا اور اس استطاعت کے نتیجہ میں آپ نے وہ روحانی سرور حاصل کئے ہیں جو خدا کی ذات میں مگن ہونے اور ڈوبنے کے نتیجہ میں حاصل ہوا کرتے ہیں، جن کو جو لذتوں سے استفادہ کر رہا ہے وہ بھی بیان نہیں کر سکتا۔پس رسول اللہ صلی السلام کا یہ کہنا کہ میرے اور خدا کے راز و نیاز میں حائل نہ ہوں۔تلاوت جو اتنی پیاری تھی تلاوت بھی اونچی آواز میں نہ کیا کرو میں کسی اور عالم میں پہنچا ہوا ہوتا ہوں اس عالم میں مخل نہ ہوں۔اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم حضرت اقدس محمد مصطفی سلین نیم کے عالم کی کوئی روحانی سیر بھی کبھی کبھی کر لیا کریں۔دیکھ لیا کر یں کس عالم میں تھے، جھانک لیا کریں ان مواقع پر جن میں آپ سی ایم خود اپنے دل میں جھانکنے کی اجازت دیتے ہیں۔اللہ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔آمین۔