خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 71 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 71

خطبات طاہر جلد 17 71 خطبہ جمعہ 23 جنوری 1998ء نے یہ ذکر کر کے کہ کسی قدر روزے انوار سماوی کی پیشوائی کے لئے رکھنا سنت خاندان نبوت ہے۔اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ میں اس سنت اہل بیت رسالت کو بجالاؤں۔سو میں نے کچھ مدت تک التزام صوم کو مناسب سمجھا۔۔۔اور اس قسم کے روزہ کے عجائبات میں سے جو میرے تجربہ میں آئے وہ لطیف مکاشفات ہیں جو اس زمانہ میں میرے پر کھلے۔“ نبیوں سے ملاقاتیں ہوئیں، اعلیٰ درجہ کے اولیاء سے گفت و شنید ہوئی۔یہ میں اپنے الفاظ میں مختصر عبارت بیان کر رہا ہوں۔انوار روحانی کے ستون تھے جو دل سے اٹھتے تھے اور آسمان سے اتر رہے تھے۔یہ سارا تجربہ بیان کرنے کے بعد حضور فرماتے ہیں میرے خیال میں ہے کہ وہ خدا کی محبت سے ترکیب پانے والے ستون تھے۔ایسے ستون تھے جن سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت نے میرے دل کی محبت کو یوں قبول فرمایا اور کچھ ستون نیچے سے اٹھ رہے تھے کچھ اوپر سے اتر رہے تھے اور ان کے ملنے سے جو لذت نصیب ہوتی تھی وہ بیان سے باہر ہے۔ناممکن ہے کہ اس لذت کو میں بیان کرسکوں۔اب جو میرا موقف تھا رسول اللہ صلی یا یتیم کے دل کی کیفیات کا ، اس سے اندازہ کر لیں۔آنحضرت صلی ا یتیم کے دل کی لذتوں کا کیا حال ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کہتے ہیں کہ مجھے ایک بزرگ نے کہا کہ خاندان نبوی کی یہ خصوصیت تھی کہ روزے رکھا کرتے تھے پس تم بھی اپنی توفیق کے مطابق روزے رکھو اور اس روزے کا اجر وہ ستون ہیں جو عشق الہی کی محبت کے ستون نیچے سے اٹھتے ہیں اوپر تک جاتے ہیں اوپر سے نیچے اتر رہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمارہے ہیں کہ اس لطف کے بیان کی مجھ میں ہرگز طاقت نہیں ہے۔یہ وہ راز و نیاز تھا جو اس سے بڑھ کر حضرت محمد مصطفی سالی سیستم کا خدا اور بندے کے درمیان ایک راز و نیاز چلا کرتا تھا۔فرماتے ہیں: یہ روحانی امور ہیں کہ دنیا ان کو نہیں پہچان سکتی کیونکہ وہ دُنیا کی آنکھوں سے بہت دور ہیں لیکن دُنیا میں ایسے بھی ہیں جن کو ان امور سے خبر ملتی ہے۔( یعنی حسب توفیق تھوڑی تھوڑی خبر عام لوگوں کو بھی مل سکتی ہے )۔۔لیکن میں ہر ایک کو یہ صلاح نہیں دیتا کہ ایسا کرے۔“