خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 822
خطبات طاہر جلد 17 822 خطبہ جمعہ 27 نومبر 1998ء کے تصور سے جو غلط فہمی پیدا ہوتی ہے وہ دور ہو جائے۔ریویو آف ریلیجنز جلد اوّل صفحہ 183 پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فرمان درج ہے۔آنحضرت ملا تم اس قدر خدا میں گم اور محو ہو گئے تھے کہ۔۔۔آپ کے وجود میں نفس اور مخلوق اور اسباب کا کچھ حصہ باقی نہیں رہا تھا۔“ ریویو آف ریلیجنز جلد 1 نمبر 5 صفحہ : 183 مئی 1902ء) اگر نفس کا اور اسباب کا ، جن اسباب کو اختیار کرنے کے ذریعے انسان کو رزق ملتا ہے اور اس کے مطالب حل ہوتے ہیں ان کا اور مخلوق کا ، خدا تعالیٰ کی مخلوق کا بھی کوئی حصہ نہیں رہا۔اگر یہ ظاہری لفظوں پر محمول مطلب لیا جائے تو تبتل کا وہ مضمون جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود دوسری جگہ بیان فرما رہے ہیں بالکل باطل ٹھہرے گا اور اللہ اور اس کے بندوں کے کلام میں کبھی نقضاد نہیں ہوا کرتا۔اس لئے میں نے اسی مضمون کی وضاحت کی خاطر یعنی مزید وضاحت کی خاطر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات آج کے خطبہ میں سنانے کے لئے رکھے ہیں۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”انسان کا کمال بھی یہی ہے۔“ اور جب لفظ کمال کہا جائے تو سب سے اول نام رسول اللہ صلی الیہ کا ذہن میں اُبھرتا ہے کہ انسان کامل بھی وہی تھے اور کمال بھی انسان کامل ہی نے دکھایا تھا۔”انسان کا کمال بھی یہی ہے کہ دنیوی کا روبار میں بھی مصروفیت رکھے۔“ یعنی یہ مضمون عام بھی ہے تمام انسانوں پر یکساں چسپاں ہو رہا ہے اس کی نفی نہیں مگر اس میں جو مرکزی اشارہ رسول اللہ صلی ایام کی طرف سے موجود ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دوسرے اقتباسات میں زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔د نیوی کا روبار میں بھی مصروفیت رکھے اور پھر خدا کو بھی نہ بھولے۔وہ ٹوکس کام کا ہے 66 جو بروقت بوجھ لادنے کے بیٹھ جاتا ہے۔“ جب بھی اس پر بوجھ ڈالا جائے اس وقت بیٹھ جاتا ہے۔جب بوجھ اتار دیا جائے تو خوب دوڑتا پھرتا ہے۔اور جب خالی ہو تو خوب چلتا ہے۔وہ قابل تعریف نہیں۔“