خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 821
خطبات طاہر جلد 17 821 خطبہ جمعہ 27 نومبر 1998ء سکتا ہے اگر وہ دنیا میں پڑ کے اس کے کام نہ ادا کرے تو بہت ہی دلچسپ تعلقات ہیں یہ اس آیت میں شکر کے اور پچھلی آیت جو میں نے بیان کی تھی ، پڑھی تھی تبتل الی اللہ کی۔اگر تبتل الی اللہ کا یہ مطلب ہوتا کہ تمام دنیا کے کاروبار سے ہٹ کر، بے نیاز ہو کر تم خدا ہی کی طرف کلیۃ ہو جاؤ ، جھک جاؤ تو وہ رزق کہاں سے آئے گا جو تم نے خدا کی راہ میں خرچ کرنا ہے۔اگر دُنیا سے تعلقات ٹوٹنے کا مطلب ہے زندگی کے کاروبار سے الگ ہو جاؤ تو پھر تو انسان اس قابل ہی نہیں رہتا کہ خود کچھ کھا سکے یا اپنی بیوی بچوں کو کچھ کھلائے۔تو کون سی طیبات ہیں جو اسے حاصل ہونگی آسمان سے تو نہیں اتریں گی وہ اس طرح کہ چھپڑ پھاڑ کے اس کو کھانے مل رہے ہوں مگر یہ طیبات آسمان ہی سے اترتی ہیں۔ایک عارف باللہ کو دکھائی دیتا ہے کہ خداہی نے سب کچھ اتارا ہے ان معنوں میں آسمان سے اترتی ہیں مگر دُنیا سے منہ موڑ کر الگ بیٹھنے والے کے لئے آسمان سے کچھ نہیں اترا کرتا اور دُنیا سے ان معنوں میں منہ موڑ نا تبتل نہیں بلکہ تکبر ہے کیونکہ تکبر ان معنوں میں کہ انسان سمجھتا ہے کہ میں نے جب دُنیا سے تعلق قطع کر لیا ہے تو اب اللہ کا فرض ہے کہ وہ مجھ پر اتارے اور جس طرح بھی ہے میرا رزق چلائے، اللہ کا فرض نہیں ہے۔متبتل خدا کی خاطر کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خدا نے جو کارخانہ قدرت جاری فرمایا ہے اس سے انسان مستغنی ہو جائے۔اگر اللہ تعالیٰ کے جاری کردہ کارخانہ قدرت سے انسان بے نیاز ہو تو یہ تکبر ہے۔اس لئے اللہ کے سارے پاک بندے دُنیا کے کاروبار ضرور کرتے رہے اور کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں دنیا سے ایک تعلق تو رہتا ہے جو کاٹا جاہی نہیں سکتا۔اگر کاٹو گے تو یہ تکبر ہے تبتل نہیں ہے۔یہ مضامین ہیں جن کو یہ دونوں آیات کلیۂ گھیر رہی ہیں یعنی وہ آیت جس کی میں نے پہلے تلاوت کی تھی وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلُ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا۔اور یہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيْبَتِ مَا رَزَقْنَكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ - اب اس تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس پڑھتا ہوں جو حضرت اقدس محمد مصطفی ملی لی ایم کے کمال تبتل پر دلالت کر رہا ہے۔آپ صلی ہی ہم نے کیا تبتل کیا، کس طرح دنیا سے کاٹے گئے ، کس طرح خدا کی طرف الگ ہوئے ، اس اقتباس کو پڑھ کر یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ دنیا کو ہر طرح سے کلیۂ چھوڑ دینے کا نام تبتل ہے اور اس شبہ کے ازالے کی خاطر حضرت اقدس مسیح موعود کے ہی بعض دوسرے اقتباسات میں نے اس کے بعد ر کھے ہیں تا کہ وہ پڑھ کر اس تبتل