خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 807 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 807

خطبات طاہر جلد 17 807 خطبہ جمعہ 20 نومبر 1998ء اب اُس زمانہ کے کئی لاکھ روپے اب ارب روپے بن چکے ہیں، وہی سلسلہ ہے۔ویسے تو جو روپے دُنیا میں لگائے جائیں وہ بچے نہیں دیتے۔یہی تعریف آنحضرت سی ایم نے روپے کی کی کہ روپے بچے تو نہیں دیا کرتے اس لئے سود کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔اگر بینک میں پڑے رہیں گے تو بیکار بیٹھے بیٹھے بچے کیسے دیدیں گے۔کم تو ہو جایا کرتے ہیں Inflation وغیرہ کی وجہ سے مگر بڑھا نہیں کرتے لیکن یہ ایک مضمون ہے جو سود کی مناہی کی حکمت سمجھانے کے لئے تھا مگر آنحضرت صلی شیا کی ستم کے دوسرے کلام سے اور قرآن کریم کے اسی مضمون سے جوسود سے تعلق رکھتا ہے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جوخدا کو دیا جائے اور وہ سود پر نہ لگایا جائے وہ ضرور بچے دیتا ہے اور بعض دفعہ اتنا بڑھتا ہے کہ سنبھالا نہیں جاتا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جو وہ چند روپے، لاکھ روپے تھے جو خدا کی خاطر آپ کو دئے گئے وہ ضرور پھلے اور پھولے ہیں۔انہوں نے بے انتہا بچے دئے ہیں اور آج جو ہم ریل پیل دیکھ رہے ہیں جماعت میں دولتوں کی، انبار لگے ہوئے ہیں یہ سب اسی کی برکت ہے۔میں نے کئی دفعہ ذکر کیا ہے شکر یاد دلانے کی خاطر پھر کرتا ہوں کہ اتنے بڑے بڑے کام جماعت کو توفیق مل رہی ہے کرنے کی مگر ایک کام بھی روپے کی کمی کی وجہ سے نہیں رُکا۔حیرت انگیز سلوک ہے اللہ کا کہ کام ذہن میں آتا ہے کہ یہ کام ہونا چاہئے اور روپوں کی بارش شروع ہو جاتی ہے۔بہت سی ایسی تحریکات ہیں جن کا جماعت کو پتا بھی نہیں ان کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔کاموں کا سلسلہ خدا پھیلا رہا ہے اور ساتھ ضروریات خود بخود پوری کرتا چلا جا رہا ہے تو جو روپوؤں کی فتوحات ہیں یہ ہے مراد اس سے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام بہت فصیح و بلیغ ہے ورنہ ایک انسان کہہ سکتا ہے کہ مجھے کئی لاکھ روپے دئے۔دیکھیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ نہیں فرمایا۔فرمایا ہے : ”اس نے کئی لاکھ روپے کی میرے پر فتوحات کیں۔“ بہت گہرا جملہ ہے۔” میرے پر فتوحات کیں۔مراد یہ ہے کہ دل فتح ہوئے ہیں تو یہ روپے آئے ہیں۔جو فتوحات مجھے دنیا میں نصیب ہوئی ہیں لوگوں کے دل جیتے گئے ، لوگوں کے دل اس طرف پھیرے گئے ، کثرت سے لوگ سلسلہ میں داخل ہوئے یہ فتوحات ہیں جن کے نتیجہ میں روپے آئے ہیں اور جتنی فتوحات بڑھتی چلی جائیں گی اتناہی اسی قسم کا پاکیزہ روپیہ آتا چلا جائے گا۔