خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 808 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 808

خطبات طاہر جلد 17 808 خطبہ جمعہ 20 نومبر 1998ء اور میں اکیلا تھا اور اس نے کئی لاکھ انسانوں کو میرے تابع کر دیا۔“ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی روح اب جماعت کو دیکھ کر کتنا خوش ہوگی کہ کئی کروڑ کا دعویٰ کر سکتے ہیں آپ اور آئندہ مجھے دکھائی دے رہا ہے کہ وہ زمانہ دور نہیں کہ کئی ارب کا دعوی کرسکیں گے اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ یہ صدی اختتام تک نہیں پہنچے گی جب تک جماعت کو اللہ تعالیٰ کروڑوں سے اربوں میں داخل نہ کر دے۔یہ مولوی کیا چیز ہیں ان کی تو حیثیت ہی کچھ نہیں بے چاروں کی۔صرف جلن ، صرف حسد۔کچھ بھی ان کے حصہ میں نہیں۔اور جماعت کو اللہ تعالیٰ فتوحات پر فتوحات عطا فرماتا چلا جا رہا ہے۔اور زمین و آسمان دونوں میں سے میرے لئے نشان ظاہر فرمائے۔“ اب یہ نشانوں کا سلسلہ ہے جو ان فتوحات کو آگے بڑھایا کرتا ہے اور یہ نشانات ایسے ہیں جن کا تعلق ہراحمدی کی ذات سے ہے۔جو بھی سچا احمدی ہے وہ اپنے دل کو ٹول کر دیکھ لے اس کو خدا نے ضرور کوئی نشان دکھائے ہیں یا اس کی دعاؤں کے طفیل یا اس کے حق میں قبول ہونے والی دعاؤں کے طفیل۔کئی طرح سے خدا تعالیٰ نشان دکھاتا ہے اور لکھوکھا ایسے احمدی ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے اپنے وجود کا ثبوت اپنے نشانات کے ذریعہ دیا اور اس ثبوت سے بڑھ کر ، اس سے بہتر اور کوئی ثبوت نہیں ہوا کرتا۔میں نہیں جانتا کہ اس نے میرے لئے یہ کیوں کیا۔(سب کے بعد آخر یہ فرما رہے ہیں ) میں نہیں جانتا کہ اس نے میرے لئے یہ کیوں کیا کیونکہ میں اپنے نفس میں کوئی خوبی نہیں پاتا۔“ (حقیقۃ الوحی ،روحانی خزائن جلد 22 صفحہ:347) اس کا مطلب بظاہر تو یہ بات ایسی لگتی ہے جو درست نہیں، میں نہیں جانتا کہ کیوں کیا۔آپ جانتے تھے کہ اللہ سے مجھے محبت سہی، ہمیشہ سے محبت تھی ، ہمیشہ رہے گی محمد رسول اللہ صلی یا ہی تم سے محبت تھی اور رہے گی۔یہی وجہ ہے کہ آپ کو کشوف میں دکھا بھی دی گئی یہ وجہ کہ یہ وجہ ہے جو تجھے چن لیا ہے۔تو جس بات کا انکار ہے وہ یہ ہے کہ میں اپنے نفس میں کوئی خوبی نہیں پاتا۔اپنے نفس کی وہ خوبی جو دنیاوی فتوحات کا موجب بنا کرتی ہے اس کا انکار ہے دراصل، اپنے آپ کو نہ عالم سمجھتے تھے ، نہ زبان دان سمجھتے تھے ، نہ کسی قسم کی سیاست سے آپ کا کوئی تعلق تھا تو دُنیا میں تو یہی چیزیں ہوا کرتی ہیں جن