خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 796 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 796

خطبات طاہر جلد 17 796 خطبہ جمعہ 13 نومبر 1998ء شہرت میں کرسی پر بیٹھوں۔مجھے طبعاً اس سے کراہت ہے کہ لوگوں میں مل کر بیٹھوں مگر امر آمر سے مجبور ہوں۔“ اب آپ کو جتنی بھی روایتیں ملتی ہیں کہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام مل کر بیٹھا کرتے تھے یہاں تک کہ کھانا بھی باہر کھاتے رہے اس سے اندازہ کریں کہ کتنی مشکل تھی یہ بات لیکن رضائے باری تعالی ، اللہ کا حکم ہے اس وقت بھی آپ کی ایک تکلیف کی حالت ہوتی تھی اور ہنسی خوشی برداشت کرتے تھے ، یہاں تک کہ روایت کرنے والے کہتے ہیں کہ جب مل کے بیٹھتے تھے تو ہمیشہ ہنستے کھیلتے خوشیوں کے ساتھ ،مجال ہے جوکسی کو ذرا بھی احساس ہو کہ اندر سے یہ شخص کتنی کوفت قبول کر رہا ہے اپنے لئے۔کتنی مشکل میں سے گزر کر یہ ہمارے دل رکھ رہا ہے مگر رضائے باری تعالیٰ ، اللہ نے حکم دیا تھا۔آپ نے کہا ٹھیک ہے میں حاضر ہوں۔” مجھے طبعاً اس سے کراہت ہے کہ لوگوں میں مل کر بیٹھوں مگر امر آمر سے مجبور ہوں۔فرمایا: میں جو باہر بیٹھتا ہوں یا سیر کرنے جاتا ہوں اور لوگوں سے بات چیت کرتا ہوں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے امر کی تعمیل کی بنا پر ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحات : 310-311 / احکم جلد 4 نمبر 3 صفحہ 4 مؤرخہ 24 جنوری 1900ء) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو اپنے نشانات براہین احمدیہ میں لکھے تھے ان میں سے سوواں نشان جو براہین احمدیہ کی ایک پیش گوئی ہے اس کے صفحہ 241 میں درج ہے اس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خود فرما رہے ہیں کہ تمہیں میرے ماضی کے حالات کا پتا نہیں کیا حالات تھے اور انہی دنوں میں اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما لیا تھا کہ تمہیں میں ضرور باہر نکالوں گا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس وقت اس کا مضمون سمجھ نہیں آرہا تھا تنہا پسند ، علیحدگی میں بیٹھے ہوئے اور یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے وہم و گمان بھی نہیں آ سکتا تھا کہ دُنیا میں اللہ تعالیٰ اتنی شہرت دے گا مگر خدا تعالیٰ کی شان دیکھیں کہ اس شہرت کے لئے پہلے سے ہی تیاری کی ہوئی تھی۔ساری تنبیہات موجود تھیں جب وہ وقت آنا تھا اس وقت یاد آتا کہ اللہ تو 25 سال پہلے مجھے یہ سب کچھ بتا چکا تھا۔اس مضمون کو آپ یوں بیان فرمارہے ہیں: