خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 795
خطبات طاہر جلد 17 795 خطبہ جمعہ 13 نومبر 1998ء جبراً ان کو کوٹھڑی سے باہر نکالتا ہے پھر ان میں ایک جذب رکھتا ہے اور ہزار ہا مخلوق طبعاً ان کی طرف چلی آتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ: 7/الحکم جلد 8 نمبر 19 صفحہ:2 مؤرخہ 10 جون 1904ء) یہی واقعات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ہمیں ملتے ہیں۔آپ کے صحابہ کی روایات میں ملتے ہیں۔ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ریتی چھلہ میں جارہے تھے جو قادیان میں ایک کھلی ریت کی جگہ تھی۔ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ آپ کے ساتھ اس وقت عشاق کا ایک جمگھٹا تھا آگے پیچھے دوڑے پھرتے تھے اور ایک عجیب منظر تھا ان کے عشق کا ، ان کی فدائیت کا۔تو ایک سکھ نکل آیا وہاں سے اس نے کہا: ”غلام احمد اتو اوہی اے نا جنہوں تیرا پیو میرے نال چھوٹے ہوندے گھلن واسطے ڈاہ دیا کر داسی۔یعنی بلے بلے کیا زمانہ آ گیا ہے۔ایک وہ زمانہ تھا کہ تمہارا باپ مجھے تجھ سے کشتی کروایا کرتا تھا اور یہ اس نے نہیں بتایا کہ کون گرا یا کرتا تھا۔اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام ہی گراتے ہوں گے۔ورنہ وہ کہتا میں تینوں ڈھالیا کر داسی۔بالکل نہیں کہا۔” تے ہن دیکھو جی اے لوگ سارے تیرے نال نٹھے پھر دے نے۔ان کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کوئی بھی پرواہ نہیں تھی کون نٹھے پھر دا اے، کیوں نٹھے پھر دا اے۔آپ کو تو تنہائی چاہئے تھی مگر یہی واقعہ ہر نبی کی زندگی میں اللہ تعالیٰ دوہرا تار ہتا ہے۔(رجسٹر روایات ( غیر مطبوعہ ) صحابہ نمبر 1 ، روای حکیم اللہ د تا صاحب ولد نظام الدین صاحب شاہ پور امر گڑھ، صفحہ: 92) اگر خدا تعالیٰ مجھے یہ اختیار دے۔“ یہ اقتباس ملفوظات جلد نمبر 1 صفحہ 310-311 طبع جدید سے لیا گیا ہے۔اگر خدا تعالیٰ مجھے اختیار دے کہ خلوت اور جلوت میں سے تو کس کو پسند کرتا ہے، تو اس پاک ذات کی قسم ہے کہ میں خلوت کو اختیار کروں۔(اس سارے کاروبار کے باوجود جہاں تک میرے دل کی تمنا ہے میں خلوت ہی کو اختیار کروں) مجھے تو کشاں کشاں میدانِ عالم میں اُسی نے نکالا ہے۔( کشاں کشاں جیسے کھینچ کھینچ کے نکالا جاتا ہے) جولذت مجھے خلوت میں آتی ہے اس سے بجز خدا تعالیٰ کے کون واقف ہے۔میں قریب 25 سال تک خلوت میں بیٹھا رہا ہوں اور کبھی ایک لحظہ کے لئے بھی نہیں چاہا کہ در بار