خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 788
خطبات طاہر جلد 17 788 خطبہ جمعہ 13 نومبر 1998ء اے اللہ ہماری اندرونی کمزوریوں پر پردہ ڈال دے، جو ہمارے چھپانے کی جگہیں ہیں جن کو ہم چھپانا چاہتے ہیں ان پر اپنا ستاری کا پردہ رکھ لے۔ وَآمِنْ رَوْعَاتِنا اور ہمارے خوفوں کو امن میں تبدیل فرمادے۔ یہ ایک بہت اچھی دعا ہے جس کو میں نے بارہا آزما کے دیکھا ہے ۔ جب بھی اس قسم کے خطرات درپیش ہوں تو دراصل یہ خطرے دو ہی طرح کے ہوا کرتے ہیں۔ کچھ کمزور انسان اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہمیشہ خطرہ رہتا ہے کہ یہ پردہ پھٹ نہ جائے اگر پردہ پھٹ گیا تو دنیا دیکھے گی ۔ تو ایک بڑا خوف اس بات کا رہتا ہے اور اکثر لوگوں کو اس قسم کا خوف لاحق ہوتا ہی ہے کیونکہ انسان کمزوریوں کا پتلا ہے اور دوسرا خوف وہ ان دیکھے خطرات ہیں جو باہر سے ان پر حملہ آور ہوتے ہیں کبھی حکومت کی طرف سے کبھی پولیس کی طرف سے کبھی بد معاشوں کی طرف سے، کبھی ڈاکوؤں کی طرف سے، ہر قسم کے خطرات اس کو گھیرے ہوئے ہوتے ہیں اور بعض ملکوں میں یہ روز مرہ کی زندگی کا دستور بن گیا ہے۔ اب پاکستان سے اکثر جو خط آتے ہیں وہ انہی خطرات کا ذکر کرتے ہوئے ان سے بچنے کے لئے دعا کے لئے خط آتے ہیں ۔ ان کو میں جواباً ۔ ان کو میں جواباً یہی لکھتا ہوں کہ اس دعا پر غور بھی کرو اور یہ دعا مانگا کرو تو پھر خطرات سے تم بے خوف ہو جاؤ گے اور یہ بے خوفی دو طرح سے نصیب ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ اللہ واقعہ ان خطرات کو ٹال دیتا ہے۔ آپ کو پتا بھی نہیں لگتا کہ کس کس موقع پر اللہ کی کسی تقدیر نے کیسے کام کیا۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے مجھے ایک خط آیا اور وہ عجیب سا خط تھا۔ وہ لکھنے والا کہتا ہے اس کے اپنے عزیز دوست کا واقعہ ہے کہ اسے ڈا کو پکڑ کر لے گئے اور بہت سختی اس پر کی اور دھکیلتے ہوئے بندوق کی نوک پر اس کو لے گئے تا کہ اس کو وہاں لوٹ کر وہ قتل بھی کر سکتے تھے، جو بھی کرنا تھا انہوں نے کرنا تھا۔ کہتے ہیں جب وہ لے گئے تو مجھ سے انہوں نے ایک سوال کیا اور وہ سوال یہ تھا کہ تم کون ہو، کسی مذہب سے تمہارا تعلق ہے؟ اس شخص کو یہ تو کل نصیب تھا اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی کہ احمدی کہلانے پر اسے کیا ہوتا ہے۔ اس نے بڑی جرات سے کہا کہ میں احمدی ہوں اللہ کے فضل سے اور جو تم نے کرنا ہے کرو، احمدیت سے میں پھر نہیں سکتا نہ احمدیت کو چھپا سکتا ہوں ۔ کہتے ہیں یہ بات سنتے ہی انہوں نے کہا کہ اچھا! تم احمدی ہو، تو لوا اپنا سامان پکڑو اور چلے جاؤ یعنی چلے جاؤ ان معنوں میں کہ اس کو دوبارہ آنکھوں پر پٹی باندھی تاکہ پتا نہ چلے کہ کہاں آیا تھا اور کہاں سے لے جایا جا رہا ہے