خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 787
خطبات طاہر جلد 17 787 خطبہ جمعہ 13 نومبر 1998ء کی خاطر مجھے بہادری عطا ہو۔یہ فیصلہ کرنے کے بعد پھر میں نے خوب نظر دوڑائی کہ کون سی جگہ ہے جہاں سب سے زیادہ ڈرنے والی جگہ ہے۔ہمارے ہاں ایک چھوٹا سا کمرہ ہوا کرتا تھا اس کمرے کے متعلق بڑی روایتیں تھیں کہ بڑی بلائیں وہاں ہوتی ہیں اور خاص طور پر وہ چمنی کی جگہ جہاں ہوتی تھی جہاں وہ آگ جلائی جاتی ہے اس کے متعلق بتایا جاتا تھا کہ یہ بڑی خطرناک جگہ ہے۔تو میں رات کو اٹھا اور دروازہ کھول کے اس کمرے کی چمنی میں جا کر بیٹھ گیا۔میں نے کہا اب جو بلا آنی ہے آجائے اور میں اللہ پر توکل کرتا ہوں مجھے پتا ہے کہ کوئی بلا مجھے نقصان نہیں پہنچا سکتی جب تک اللہ نہ چا ہے۔کچھ دیر بیٹھنے کے بعد اتنا سکون ملا ہے آرام سے چلا گیا بستر پر پڑتے ہی نیند آ گئی ، کوڑی کی بھی پرواہ نہیں رہی۔تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس عبارت کو پڑھتے ہوئے مجھے یہ اپنا ذاتی واقعہ یاد آ گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام شناسا تھے ان باتوں کے۔باوجود اس کے کہ خود آپ پر ایسا کوئی وقت نہیں گزرا لیکن صاحب عرفان تھے، انسانی نفسیات کو سمجھتے تھے۔تو ہم نے جو چیزیں تلخ تجربوں سے سیکھیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ایک عرفان کی صورت میں روشن تھیں اور یہی وہ مضمون ہے جو آپ غار حرا کے تعلق میں بیان فرما رہے ہیں۔بے انتہا بہادر تھے اور اللہ پر کامل ایمان اور اللہ پر توکل کرنا اور اس کے نتیجہ میں تبتل جو شروع کی عبارت میں نے پڑھی تھی دیکھیں کس طرح مضمون آپس میں جڑواں ہیں۔تبتل اس لئے کیا تھا کہ اللہ پر توکل تھا اور اللہ سے محبت تھی اور اس کی خاطر تنہائی سے بالکل بے خوفی ہوگئی تھی ، کوئی ذرا سا بھی ڈر باقی نہیں رہا۔”جب خدا تعالیٰ سے تعلق شدید ہو تو پھر شجاعت آہی جاتی ہے۔یہ تولازمہ ہے اس کا۔اس لئے مومن کبھی بز دل نہیں ہوتا۔اب یا درکھو آپ میں سے کون کون بزدل ہے وہ اپنے نفس پر غور کر کے دیکھ لے۔مومن صرف جنات سے ہی بے خوف نہیں ہوتا بلکہ ہر دُنیا کی بلا سے بے خوف ہو جاتا ہے اور بے خوفی کا نسخہ یہ ہے۔آپ کو طرح طرح کے خوف گھیر لیتے ہیں لوگ مجھے لکھتے رہتے ہیں خطوں میں کہ ہم اس بات سے ڈرتے ہیں یہ نہ ہو جائے ، وہ نہ ہو جائے۔ان کو میں لکھتا ہوں کہ وہ دعا کیا کرو کہ : 66 " اللهم استر عَوْرَاتِنَا، وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا “ (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة، مسند أبي سعيد الخدری ، مسند نمبر: 10996