خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 789
خطبات طاہر جلد 17 789 خطبہ جمعہ 13 نومبر 1998ء اور اسے اسی جگہ واپس چھوڑ گئے جہاں سے انہوں نے اس کو اٹھایا تھا۔اب اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ تو کل کا یہ بھی نتیجہ ہوسکتا ہے۔دوسری طرف تو کل والے کو اگر نقصان پہنچ بھی جائے تو وہ سمجھتا ہے کہ اللہ نے مجھے دیا تھا اور اسی نے واپس لے لیا، اس نے امتحان لیا تو میں اس امتحان میں کیوں ناکام ہوں اور پھر اللہ اس کو بہت دیتا ہے۔تو یہ دو طرح سے تو کل ہیں جو اللہ پر یقین کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں اور تبتل کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔اب ایک اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا اقتباس ہے، ملفوظات جلد 4 صفحہ 664 طبع جدید سے لیا گیا ہے۔عنوان اس کا یہ ہے انبیاء اور رسل کی خلوت پسندی“ فرماتے ہیں: یہ مت سمجھو کہ انبیاء ورسل اپنے مبعوث ہونے کے لئے درخواست کرتے ہیں۔ہر گز نہیں۔“ مبعوث ہونے کے لئے درخواست کیسے کر سکتے ہیں وہ تو بھاگتے ہیں دُنیا سے اور پتا ہوتا ہے کہ جہاں مبعوث ہوئے وہاں بے شمار کام اور ذمہ داریاں پڑ جائیں گی۔ان کو کیسے نبھا ئیں گے ، ان کو نبھانے کی خاطر لوگوں سے ملنا ہے، ہر وقت کی آمد و رفت یہ ساری چیزیں اس بعثت کا طبعی نتیجہ ہیں۔فرماتے ہیں: ہر گز نہیں۔وہ تو ایسی زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں کہ بالکل گمنام رہیں اور کوئی ان کو نہ جانے مگر اللہ تعالیٰ زور سے ان کو حجروں سے باہر نکالتا ہے۔“ اب دیکھیں کیسا جبر کرتا ہے اللہ ان کے اوپر کیونکہ اللہ کو ایسے ہی آدمی چاہئیں۔جس قسم کا ملازم انسان نے رکھنا ہوا گر وہ صفات مل جائیں تو انسان اس کے انکار کے باوجود بھی کوشش یہی کرے گا کہ میں اسے رکھ لوں۔ایسی بہت سی مثالیں تاریخ میں ملتی ہیں کہ لوگوں نے ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا اور حاکم وقت نے زبر دستی وہ ذمہ داری ان کے سپرد کی۔تو فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ زور سے ان کو حجروں سے باہر نکالتا ہے۔ہر ایک نبی کی زندگی ایسی ہی تھی۔آنحضرت سلیم تو دنیا سے پوشیدہ رہنا چاہتے تھے۔“ اب دیکھیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تقویٰ اور صدق کہ آنحضرت صلی یتیم کی غیر معمولی محبت کے باوجود باقی نبیوں کا جو حق تھا وہ بھی ادا کرنے سے پیچھے نہیں رہے۔یہ ہر نبوت کا خاصہ ہے مگر ان کے درجے ہیں، الگ الگ مقامات ہیں۔آنحضرت سائی یا اینم کی خلوت نشینی کا درجہ سارے