خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 753
خطبات طاہر جلد 17 753 خطبہ جمعہ 30اکتوبر 1998ء دور دورہ دکھائی دے رہا ہے یہ قطعی طور پر ثابت کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اینم کی تعریف کی رو سے یہ یہ مسلمان کہلانے کے مستحق نہیں کیونکہ دین اسلام کا خلاصہ حیا ہے۔جہاں حیا اٹھ جائے اور بے حیائی کا عام دور دورہ ہو اس ملک کے بسنے والے اسلام کی طرف لاکھ منسوب ہوں حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی ایلم کی تعریف کی رو سے وہ مسلمان نہیں کہلا سکتے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت سنن الترمذی سے لی گئی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی یا ہی تم نے فرمایا: ”حیا ایمان میں سے ہے اور ایمان جنت میں ہے۔“ اب وہاں سے کا لفظ بھی نہیں ایمان جنت میں ہے۔ترجمہ کرنے والے اس کا ترجمہ کرتے وقت اس کے معانی کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنی طرف سے یہ لگا لیتے ہیں کہ ایمان والا جنت میں جائے گا۔حالانکہ آنحضرت صلی ایم کے فصیح وبلیغ کلام میں یہ ذکر نہیں ہے ورنہ کہہ سکتے تھے کہ ہر مومن جنت میں جائے گا اور یہ بات تو عام پھیلی پڑی ہے ہر جگہ۔بہت ہی لطیف کلام ہے اور اس کے ساتھ ہی فرمایا: وَ البَذَاء مِنَ الجَفَاءِ، وَالجَفَاء فِي النَّارِ (سنن الترمذی، کتاب البر والصلة عن رسول الله ﷺ باب ما جاء فی الحیاء،حدیث نمبر :2009) که بناء یعنی نخش گوئی یہ بد خلقی میں سے ہے اور بدخلقی دوزخ میں پلتی ہے۔یہ نہیں فرمایا بد خلقی کرنے والا۔وَالجَفَاء فِي النَّارِ : اور بدخلقی دوزخ میں پلتی ہے۔بہت ہی فصیح و بلیغ کلام ہے جس سے بہت مطالب پھوٹتے ہیں۔تو بار بار اسی حدیث کے حوالے سے اس کے مطالب کی بحث اگر شروع کی تو بعض لوگوں کے لئے شاید سمجھنے میں دقت پیدا ہو۔میں نے اس کا ترجمہ، جو بعینہ ترجمہ بنتا ہے وہ آپ کے سامنے رکھ دیا ہے۔ایمان جنت میں ہے اس کا کیا مطلب ہے؟ در اصل ایمان کا ایک مرکزی معنی یہ ہے۔ظمانِينَةُ النَّفْسِ وَزَوَالُ الْخَوْفِ “ 66 (المفردات فی غریب القرآن، کتاب الألف زير لفظ أمن ) طمانیت نفس اور زوال خوف اور یہی معنی حضرت امام راغب نے اور بعض اور کتب میں بیان کئے ہیں جو عربی لغت کی کتابوں میں بہت نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔حضرت امام راغب اور ان دونوں لغات کا اتفاق اس بات پر یہ بتا رہا ہے کہ یہ معنی اصل ہے یعنی مرکزی معنی یہی ہے باقی سارے معانی اس