خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 754
خطبات طاہر جلد 17 754 خطبہ جمعہ 30اکتوبر 1998ء سے پھوٹتے ہیں۔تو اس لئے آنحضرت صلی ا یتیم کے اس ارشاد کو غور سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ حیا ایمان ہے اور ایمان جنت میں ہے۔کن معنوں میں جنت میں ہے؟ اس لئے کہ پوری طمانیت ہی حیا سے ملتی ہے اور پوری طمانیت ہی ایمان سے ملتی ہے اور اصل طمانیت جس میں زَوَالُ الخوف بھی شامل ہو کوئی خوف کا شائبہ تک باقی نہ رہے وہ امن کی حالت ، وہ طمانیت کی حالت حیا سے ملتی ہے اور جیسا کہ میں آگے تفصیل بیان کروں گا حیا ہی کے سارے شعبے ہیں جو ساری زندگی پر چھائے ہوئے ہیں اور سچی طمانیت حیا سے نصیب ہوتی ہے۔اور ایمان کا یہ معنی کہ ایمان جنت میں ہے طمانیت نصیب کرتا ہے اور زوال الخوف ہے۔یہ معنی حضرت ابراہیمؑ کے پیش نظر تھے جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ سوال کیا کہ مجھے بتا کہ مردے کیسے زندہ کئے جاتے ہیں؟ جو اب دیکھیں اللہ نے یہی فرمایا: اَوَلَمْ تُؤْمِن تو ایمان نہیں لایا۔اللہ جانتا تھا کہ حضرت ابراہیم ایمان لے آئے ہیں مگر حضرت ابراہیمؑ کی فراست کا ایک گویا امتحان تھا کہ دیکھیں کن معنوں میں یہ کہ رہا ہے تو حضرت ابراہیم نے عرض کیا : بَلَى وَلَكِن ليَطْمن قلبى (البقرة: 261) ایمان تو لایا ہوں مگر ایمان کا یہ پہلو بھی تو پیش نظر ہے کہ وہ طمانیت بخشتا ہے۔تو میں ایمان کے گہرے معانی پر نظر رکھتے ہوئے یہ عرض کر رہا ہوں تا کہ تو یہ خیال نہ کرے میرے متعلق اے خدا! یہ گمان نہ کرے کہ میں ایمان نہیں لاتا اس لئے پوچھ رہا ہوں اس لئے کہ ایمان کے تمام شعبوں پر حاوی ہو جاؤں۔اس کی جان طمانیت ہے، کوئی بھی خلش دل میں باقی ندر ہے۔یہ بہت وسیع مضمون ہے حضرت ابراہیم کا یہ جواب ہی بہت عظیم الشان ہے مگر جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا میں حدیثوں کے ذکر کے بعد پھر ان حدیثوں کے خلاصہ کے طور پر اس حیا کے مضمون کو اس خطبہ میں مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔ایک اور حدیث بخاری کتاب الادب سے لی گئی ہے۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ : آنحضرت صلی ایم ایک شخص کے پاس سے گزرے وہ اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں سرزنش کر رہا تھا۔تم حیادار ہو بہت زیادہ ، ہر کام سے پیچھے رہ جاتے ہو۔“ اس قسم کی کچھ باتیں ہونگی مگر یہ حیا کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ پیچھے رہ جائے کوئی شخص مگر چونکہ وہ حیا کے خلاف سرزنش کر رہا تھا۔