خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 752 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 752

خطبات طاہر جلد 17 752 خطبہ جمعہ 30اکتوبر 1998ء آباد ہو چکے ہیں ان کی تعداد پچاس سے زائد ہے۔بہت سے پرانی فرانسیسی نوآبادیات سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں اور بہت سے دوسری وجوہات سے یہاں آکر بس جانے والے البانیہ وغیرہ کے لوگ ہیں ، بوسنیا کے بھی ہیں۔غرض یہ کہ مختلف یورپ کی اور افریقہ کی نمائندہ قومیں یہاں آباد ہیں۔چنانچہ اس موقع پر چونکہ میری شمولیت کی توقع تھی انہوں نے پچاس سے زائد قوموں سے تعلق رکھنے والے غیر از جماعت مہمانوں کو شرکت کی دعوت دی تھی اور ان کی توقع ہے کہ وہ سارے شامل ہو گئے ہونگے تو جتنے بھی شامل ہو سکے ہیں یہ ان کے نصیب۔بہر حال ان سب کے لئے ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت کے سامان فرمائے آج جو مہمان کے طور پر شامل ہو رہے ہیں کل وہ میز بان کے طور پر بھی شامل ہوں۔اب میں اسی مضمون کا آغاز کرتا ہوں جسے نامکمل چھوڑ دیا گیا تھا۔حیا کا مضمون چل رہا ہے۔سب سے پہلی حدیث جو اس ضمن میں میں نے اختیار کی ہے وہ مؤطا امام مالك ، كتاب حسن الخلق سے لی گئی ہے۔اس میں حضرت زید بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت سائی یتیم کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ہر دین کا ایک خاص خُلق ہوتا ہے اور اسلام کا خلق حیا ہے۔“ (مؤطا امام مالك، كتاب حسن الخلق، باب ماجاء في الحياء ، حدیث نمبر :9) اب یہ بات بھی یادرکھنے کے لائق ہے کہ جب کہا جائے ہر دین کا ایک خاص خلق ہوتا ہے اور اسلام کا خلق حیا ہے تو ثابت ہو رہا ہے کہ اور کسی دین میں حیا کو بطور خلق کے استعمال نہیں کیا گیا۔یہ بہت ہی اہم نکتہ ہے جو سمجھنے کے لائق ہے اور غیر دینوں سے تبادلہ کھیالات کے وقت تبلیغ کرنے والوں کو یہ نکتہ یا درکھنا چاہئے ، ان کے بہت کام کا نکتہ ہے کیونکہ حیا تمام نیکیوں کی جان ہے اور تمام بداخلاقیوں کی دشمن ہے۔اگر حیا عیسائیت کی بھی جان ہوتی اور یہی اس کا مرکزی نکتہ ہوتا تو آج عیسائی ملکوں میں جو فسادات پھیلے ہوئے ہیں جو خرابیاں برپا ہیں وہ کبھی دکھائی نہ دیتیں۔مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمان ملکوں میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے مگر اس لئے ہو رہا ہے کہ حیا چھوڑنے کی وجہ سے ہوا ہے۔حیا دین کا حصہ ہے اگر دین والوں کو حیا نہ رہے تو ان کے اخلاق اور ایمان کی حفاظت تو حیا نہیں کر سکتی۔پس تمام مسلمان کہلانے والے ملکوں میں جو بے حیائی کا دور دورہ دکھائی دے رہا ہے، بدخلقیوں کا