خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 751 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 751

خطبات طاہر جلد 17 751 خطبہ جمعہ 30 اکتوبر 1998ء اور ان کے آنے جانے سے بھی شبہات پیدا ہوتے رہے اور معلوم ہوتا ہے کہ مسلسل ان کی انٹیلی جنس نے ہماری نگرانی کی ہے۔ آٹھ دس سال تک مسلسل نگرانی کرتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ بالآخر پوری طرح مطمئن ہو گئے کہ جماعت احمدیہ کا دہشت گردی سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔ چونکہ نگرانی کے دوران کوئی بھی واقعہ ایسا ان کو دکھائی نہیں دیا کہ جس سے ہماری دلچسپیوں کو روک سکتے ، اس لئے روکا تو نہیں مگر منظوری بھی نہ دی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جونئی انتظامیہ ہے اس میں ملک اشفاق ربانی صاحب نئے امیر مقرر ہوئے ہیں وہ معاملہ جو دیر سے لڑکا ہوا تھا اس پر انہوں نے فوری توجہ دی اور کونسل سے مل ملا کر ان کو بتایا کہ دیکھو تم جانتے ہو کہ ہم صاف ستھرے لوگ ہیں اور یہ بھی جانتے ہو کہ یہ جگہ مسجد کے طور پر استعمال ہو رہی ہے تو ہمارا حق کیوں تسلیم نہیں کرتے کہ جو مسجد کے لئے جگہ استعمال ہو اس کو مسجد ہی کہیں ۔ چنانچہ الحمد للہ کہ اشفاق ربانی صاحب نے کچھ دن پہلے مجھے یہ اطلاع دی کہ کونسل نے با قاعدہ اسے مسجد کے طور پر منظور درج کر لیا ہے۔ منظوری تو وہ نہیں دے سکتے وہ تو اللہ ہی دیتا ہے مگر درج کر سکتے ہیں۔ چنانچہ اب یہ بطور مسجد درج ہو چکی ہے۔ یہ وجہ تھی کہ ان کی خواہش تھی کہ اس موقع پر میں جا کر اس نئی صورت حال میں از سر نو افتتاح کرتا۔ پہلے جو افتتاح تھا وہ ایک مسجد کی عارضی جگہ کا ہوا تھا ۔ اب بحیثیت مسجد اس کا افتتاح ہونا تھا۔ وہی وجوہات مانع ہوئیں جو میں پہلے ذکر کر چکا ہوں اور میں وہاں خود حاضر نہیں ہو سکا لیکن ان کی یہ خواہش ہے کہ میں ان کا بھی تذکرہ کردوں ، ان کی جماعت کا بھی ، ان کی کوششوں کا بھی تا کہ سب دنیا کی جماعتوں میں دعا کی تحریک ہو۔ جو جماعت کی نئی انتظامیہ ہے انہوں نے جو غیر معمولی کوشش شروع کی ہے اس کے نتیجہ میں بہت سے مستقل مفید کاموں کا اجراء ہو چکا ہے اور میں مثال کے طور پر آپ کے سامنے امنے ذ ذکر کر رہا ہوں کہ فرانس MTA کے سٹوڈیو کا بھی آج ہی افتتاح ہو رہا ہے۔ جماعت فرانس میں ایک بیداری کی جواہر ہے اس سے تبلیغ اور مالی قربانی کے میدان میں بہت آگے بڑھے ہیں۔ بچوں کی تعلیمی تربیتی اور قرآن کلاسز کے علاوہ نومبائین کی کلاس اور داعیان الی اللہ کے اجلاسات کا سلسلہ بھی جاری ہو چکا ہے۔ نیز لائبریریوں میں جماعتی کتب اور قرآن کریم کے نسخے رکھوانے کی کارروائی بھی ہو رہی ہے۔ اس جلسہ میں جو فرانس کے باشندے ہیں ان میں سے وہ لوگ جن کی مختلف قومیتیں ہیں اور مجھے تعجب ہوا یہ معلوم کر کے کہ فرانس میں مختلف قومیتوں کے جولوگ