خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 747
خطبات طاہر جلد 17 747 خطبہ جمعہ 30اکتوبر 1998ء خطبہ میں میں نے جماعت ہالینڈ کو تسلی دی کہ ہم تو ہمیشہ سے خدا کا ایک سلوک دیکھ رہے ہیں۔آپ کو گھبرانے کی کیا ضرورت ہے، اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے دس گنا زیادہ مسجد بنانے کی توفیق بخشے گا اور پچاس نمازی کی بجائے پانچ سو نمازی اس مسجد میں نماز پڑھ سکیں گے۔اب یہ بات تو آئی گئی ہوگئی۔میں بھی بھول گیا اور امیر صاحب اور جماعت کے کارندے اور وہ آرکیٹیکٹ عبدالرشید صاحب جنہوں نے اس مسجد میں بہت نمایاں کردار ادا کیا ہے وہ بھی بات کو بھول چکے تھے اور جس وقت وہ مسجد کو اور ساری عمارت کو ڈیزائن کر رہے تھے اس وقت ان کے ذہن کے کسی گوشے میں بھی نہیں تھا کہ دس گنا مسجد کا اللہ تعالیٰ نے گویا عملاً وعدہ فرما لیا ہے۔بعض دفعہ اس کے عاجز بندوں کے منہ سے نکلی ہوئی بات پوری بھی فرما دیتا ہے تو ارادہ اللہ ہی کا ہوتا ہے اسی لئے وہ بات منہ سے نکل جاتی ہے۔چنانچہ ان کے کسی خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ اس وجہ سے ڈیزائن کروں کیونکہ کل رقبہ جو اس تعمیر کا تھا وہ دس گنا نہیں بلکہ اڑھائی گنا تھا۔اس وجہ سے طبعی طور پر ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا لیکن جب اللہ تعالیٰ کے فضل سے بالآخر بہت لمبی محنت کے بعد یہ مسجد مکمل ہوگئی تو آرکیٹیکٹ صاحب نے جاکے پیمائش شروع کی تو حیران رہ گئے دیکھ کے کہ اس بلڈنگ میں جو عمومی رقبہ کے لحاظ سے اڑھائی گنا ہے مسجد کا حصہ دس گنا ہے اور بعینہ وہی بات پوری ہوئی ہے کہ پچاس کی بجائے پانچ سونمازی وہاں نماز پڑھ سکتے ہیں۔تو یہ اللہ کے کاروبار ہیں۔یہ میں آپ کو محض اس لئے عرض کر رہا ہوں کہ جس حد تک بھی ممکن ہو خدا کی حمد اور شکر بجالائیں۔وہ جماعت سے بے انتہا احسان کا سلوک فرماتا ہے۔تو اس مسجد کے افتتاح کے لئے اب مجھے بھی جانا تھا اور خاص طور پر جب انہوں نے یہ بتایا کہ یہ واقعہ اس طرح ہوا ہے تو میں بھی طبعی جوش رکھتا تھا کہ اس مسجد میں جاؤں لیکن یہ بھی اللہ کے کاروبار ہیں کہ ہالینڈ کی مسجد کا آغاز بھی خلیفہ وقت نے نہیں کیا تھا کسی اور نے کیا تھا۔اس کی جب توسیع ہوئی ہے تب بھی خلیفہ وقت کو توفیق نہیں ملی بلکہ اس کی نمائندگی میں کسی اور ہی کو موقع ملا ہے۔اللہ اپنے راز بہتر سمجھتا ہے بہر حال ہم راضی برضا ہیں اور جو التواء کی وجہ ہے ، وہاں جانے میں التواء ہوا ہے وہ وجہ موسم کی ایسی اچانک خرابی ہے جس پر ہمارا کوئی بھی اختیار نہیں تھا۔ہر طرح سے ہم نے کوشش کر دیکھی وہ جہاز پکڑنے کی جوایک ہی جہاز چل رہا تھا، وہ پکڑنے کی کوشش بھی کی اگر چہ موسم بہت خراب تھا لیکن ہمیں جہاز والوں نے بتایا کہ اس جہاز