خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 748 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 748

خطبات طاہر جلد 17 748 خطبہ جمعہ 30اکتوبر 1998ء پراتناد باؤ ہے ٹریفک کا، کیونکہ ایک ہی چل رہا ہے صرف ، کہ ناممکن ہے آپ کو اس میں جگہ دینا۔پھر ہم نے سوچا کہ ٹنل Tunnel میں کیوں نہ سفر کریں۔وہ گاڑی جس کا باہر کے طوفانوں سے کوئی بھی تعلق نہیں وہ اس وقت خیال نہیں آیا کہ سب کو یہی خیال آیا ہوگا اور ان منتظمین نے ہمیں کہا کہ یہ وہم ہی دل سے نکال دو، اتنی بڑی ٹریفک ہے یہاں ہمارے پاس اس وقت کہ اسے سنبھالنا ناممکن ہو چکا ہے۔اگر آپ ریز رو بھی کروالیں تو ریز رو کروانے کے باوجود ہوسکتا ہے بارہ گھنٹے Queue میں کھڑا ہونا پڑے۔تو جو صورت تھی ویسی تھی کہ ناممکن تھا۔پھر بھی Queue میں کھڑے بھی رہتے بارہ گھنٹے تو ہوسکتا ہے کہ آگے کسی اور کی باری آتی اور ہم پیچھے سے انتظار ہی میں رہ جاتے۔تو یہ مجبوریاں تھیں جن کی وجہ سے میں وہاں خود شامل نہیں ہو سکا لیکن امیر صاحب سے میں نے درخواست کی کہ وہ اس مسجد کا افتتاح کروائیں اور اُمید ہے کہ اس وقت وہاں افتتاح ہو رہا ہوگا یا ہو چکا ہوگا۔اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ اس مسجد کی تعمیر میں وقار عمل کے ذریعہ اور چوہدری عبدالرشید صاحب آرکیٹیکٹ کے عمدہ نقشہ بنانے کے نتیجہ میں اور پھر سارے کام کی نگرانی کے نتیجہ میں اس مسجد پر جتنا تعمیر نو پر خرچ آنا تھا اس سے بہت کم خرچ اٹھا ہے۔اب دعا کی خاطر جو کارندے ہیں جنہوں نے کام کیا ہے ان کا ذکر کرتا ہوں۔سب سے پہلے تو امیر صاحب ہالینڈ خود ہیں اور ان کے ساتھ حمید صاحب نے بھی جس حد تک ان کے وقت نے اجازت دی انہوں نے اس مسجد کے معاملات میں گہری دلچسپی لی۔اب امیر صاحب ہالینڈ تو بہر حال چندہ اکٹھا کرنے منتیں کروانے ، وقار عمل کے انتظام کروانے میں مسلسل بہترین کارکردگی دکھاتے رہے۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔چوہدری عبدالرشید صاحب آرکیٹیکٹ بھی خاص طور پر دعا کے مستحق ہیں۔ان کا سب سے پہلے تو جو نقشے بنانے اور ان کی کونسل سے منظوریاں لینے ، اس میں بہت وقت صرف ہوا ہے ہمارا۔بہت پہلے یہ مسجد بن سکتی تھی مگر کونسل سے نئے نقشے بنا کر ان کی منظور یاں لینا یہ دو مسائل پیش کر رہا تھا۔ایک تو یہ کہ وہاں کے آرکیٹیکٹ سے اگر ہم یہ کرواتے تو اس آرکیٹیکٹ کی فیس ہی بہت زیادہ تھی اور پھر اس کے ذریعہ جن کمپنیوں کو ٹھیکہ دیتے ان کے اخراجات بے انتہا تھے۔اس لئے چوہدری عبدالرشید صاحب کو میں نے مشورہ دیا کہ آپ بطور آرکیٹیکٹ وہاں درج ہو جائیں اور جو نئے قوانین بنے ہیں یورپ کے اکٹھے ہونے کے نتیجہ میں ان میں ان کو موقع مل گیا۔چنانچہ بحیثیت آرکیٹیکٹ ان کا وہاں