خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 746
خطبات طاہر جلد 17 746 خطبہ جمعہ 30اکتوبر 1998ء فضل سے گنجائش بہت تھی وہاں بھی اگر چہ جو مسجد کے لئے جگہ مخصوص ہے وہ اتنی وسیع نہیں ہے کہ سب نمازی آسکیں مگر اردگرد کے دوسرے عمارتی علاقے ایسے ہیں جہاں چھتوں کے نیچے نماز پڑھی جاسکتی ہے۔باہر خیموں کی ضرورت نہیں پڑتی۔بہر حال یہ تو اس مسجد کا آغاز ہے جو اس کا ذکر کیا۔کیسے ہوا اس کا آغاز لجنہ اماءاللہ کی خاص غیر معمولی خدمت کے نتیجہ میں اس کی تعمیر ہوئی تھی لیکن اس مسجد کو آگ لگانے کا واقعہ اب میں بیان کرتا ہوں۔1987ء کو اس مسجد کو آگ لگا دی گئی اور آگ لگانے والے کا کچھ پتا نہ چلا۔پولیس نے اپنی طرف سے کوشش کی ہوگی مگر اللہ بہتر جانتا ہے کہ کیا وجوہات تھیں جو ہم سے مخفی رکھی گئیں ،مگر ہوا یہ ہے کہ اس دور میں یہ سلسلہ مختلف جگہوں میں مجھے دکھائی دیا کہ جب بھی جلسہ سالانہ پر جماعتوں کے نمائندے آئے ہوتے تھے اور مسجدیں یا مراکز خالی رہ جاتے تھے اسی زمانہ میں ایک شریروں کا گروہ تھا اور آپ بطور احمدی تو جانتے ہی ہیں کہ وہ کس قسم کے لوگ ہیں جن کا پیشہ ہی مسجدوں کو جلانا اور اسی میں ان کی نجات ہے تو وہ لوگ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ہماری مساجد اور مراکز جو تبلیغی مراکز تھے ان میں آگ لگایا کرتے تھے اور یہ تمام دُنیا میں پھیلے ہوئے واقعات ہیں۔چنانچہ اسی وجہ سے پھر میں نے خصوصی ہدایت دی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب جماعت وہاں با قاعدہ ہر جگہ مستعد رہتی ہے اور نگرانی کرتی ہے تا کہ پیچھے کسی شریر کو موقع نہ ملے۔تو یہ آگ لگانے کا واقعہ ان دنوں کا آغاز کا واقعہ ہے جب یہ حرکتیں شروع ہوئی تھیں۔کسی نے کھڑکی کے شیشے توڑے اور اندر جا کر مسجد کو آگ لگا کر اپنی جنت کمالی اور وہ آگ اصل میں اپنے لئے جلائی تھی۔ایسے لوگ دُنیا میں بھی خدا تعالیٰ کی تقدیر کے تابع آگ ہی میں جلتے رہتے ہیں اور آگ جلاتے ہی تب ہیں جب حسد کی آگ بھڑک رہی ہوتی ہے۔تو آگ سے حسد کا گہرا تعلق ہے اور حسد کے نتیجے میں یہ سارے واقعات رونما ہوتے ہیں۔اور آئندہ کے لئے بھی جو آگ بھڑکائی جائے گی وہ ان کی اپنی بھڑکائی ہوئی آگ ہے مگر اللہ ان لوگوں کے لئے اس آگ کو جنت بنا دیتا ہے جن کے اوپر خدا کی رضا کی قبولیت کے نتیجے میں آگ بھڑکائی جاتی ہے جیسے حضرت ابراہیم علیہ الصلواۃ والسلام کی آگ کو جنت بنادیا۔تو اسی قسم کے واقعات ہم روز مرہ جماعت کی زندگی میں دیکھ رہے ہیں۔چنانچہ جب یہ آگ لگائی گئی تو جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے صرف زیادہ سے زیادہ پچاس نمازی اس مسجد میں نماز پڑھ سکتے تھے تو بعد کے ایک