خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 721
خطبات طاہر جلد 17 721 خطبہ جمعہ 16اکتوبر 1998ء ملفوظات جلد اوّل صفحہ: 273 میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں: جگری گریہ و بکا آستانہ الوہیت پر ہر ایک قسم کی نفسانی گندگیوں اور مفسد مواد کو لے کر نکل جاتا ہے۔“ گریہ و بکا نہیں فرمایا۔جگری گریہ و بکا آستانہ الوہیت پر ہر ایک قسم کی نفسانی گندگیوں اور مفسد مواد کو لے کر نکل جاتا ہے یعنی محض رونے کے نتیجہ میں دل کے فساد آنکھوں کی راہ سے باہر نہیں نکلا کرتے اور دل پاک و صاف نہیں ہوا کرتا بلکہ لفظ جگری کی شرط آپ نے رکھ دی ہے۔جگری کا معنی ہے جو فی الحقیقت سچا ہو، بہت گہرائی اپنے اندر رکھتا ہو۔تو ان معنوں میں جگری فرما یا کہ ” جگری آہ و بکاء آستانہ الوہیت پر ہر ایک قسم کی نفسانی گندگیوں اور مفسد مواد کو لے کر نکل جاتا ہے“۔جب انسان اس گریہ وزاری سے ایک دفعہ صاف کر دیتا ہے تو دوبارہ وہ مواد پھر واپس نہیں جایا کرتا۔یہ نشانی ہے جو ہر ایک کے لئے کھلی ہے۔کوئی نہیں کہہ سکتا کہ بہت مشکل مضمون جسے ہم سمجھ ہی نہیں سکتے جسے پہچاننا ہمارے بس کی بات نہیں۔اس کو پہچاننا وتی تو بہ کے بعد پھر جو مستقل عمل باقی رہ جاتا ہے اس کو پہچاننے کے ساتھ یہ بات بھی پہچانی جاسکتی ہے۔اگر وقتی گریہ وزاری ہو تو وقتی طور پر انسان اپنے دل کو ہلکا محسوس کرتا ہے، ہر رونے کے بعد ہلکا محسوس کرتا ہے تب ہی اکثر رونے کے بعد لوگوں کو نیند آ جاتی ہے، دل خالی ہو جاتا ہے، ہر بوجھ اتر گیا لیکن اگر وہ جگری نہ ہو تو جو مواد دل سے نکلا ہے پھر دل اس سے بھر جائے گا اور کوئی گند نہیں ہے جو صاف ہوا ہے وہ خود گریہ کا بوجھ ہے جو صاف ہوا ہے اور اس کو پاک وصاف بنا دیتا ہے ان معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اہل اللہ کا ایک آنسو جو توبتہ النصوح کے وقت نکلتا ہے ہوا و ہوس کے بندے اور ریا کار اور ظلمتوں کے گرفتار کے ایک دریا بہا دینے سے افضل واعلیٰ ہے۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ: 273/ الحکم جلد 5 نمبر 10 صفحہ:2 مؤرخہ 17 مارچ 1901ء) وہ ایک قطرہ کیا ہے جو انسانی زندگی پر گویا رحمتوں کی بارش برسا دیتا ہے، ہے ایک قطرہ۔وہ قطرہ جب خدا قبول فرمالے تو پھر وہ آسمانی زندگی پر گویا رحمتوں کی بارش بن جاتا ہے کیونکہ اللہ سچی روح کو کبھی ضائع نہیں ہونے دیتا، سچی روح کے ساتھ اس کے حضور اگر آنسو کا ایک قطرہ بھی بہایا جائے تو پھر وہی رحمتوں کی مسلسل موسلا دھار بارشیں بن جاتا ہے۔تو توبتہ النصوح جو فر ما یا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسی