خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 720 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 720

خطبات طاہر جلد 17 720 خطبہ جمعہ 16اکتوبر 1998ء ہر تکلیف کے وقت انسان خدا کی طرف لوٹتا ہے اور انا للہ وانا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کا ایک یہ بھی معنی ہے یعنی کہیں کسی مقام پر اسے ایسا دھکا لگتا ہے کہ خدا سے دوری کا سفر اس کے قرب کے سفر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔جیسے پتھر دیوار پر ماریں تو وہ لوٹ کر آتا ہے اس طرح بعض دیواروں سے سر ٹکرانے کے بعد انسان کو خدا یاد آتا ہے اور وہ پتھر کی طرح واپس لوٹتا ہے لیکن ان دونوں میں پھر فرق ہے۔بعض پتھر واپس لوٹتے ہیں مگر کچھ دیر کے بعد زمین پر گر جاتے ہیں لیکن جو شعائیں ہیں جو روحانیت کی مثال ہیں کیونکہ اللہ نے روحانیت کو نور سے تشبیہہ دی ہے وہ جب کسی جگہ سے ٹکرا کر واپس لوٹتی ہیں تو رستے میں نہیں گر جایا کرتیں۔ان کا سفر مستقل ہوتا ہے، کسی وقت، کسی جگہ وہ ختم نہیں ہوتا۔تو اس طرح یہ نہ سمجھیں کہ ہر شخص کے ساتھ ایک ہی سلوک ہوتا ہے۔وہ لوگ جو دُنیا دار ہوں ان کے پتھر دُنیا کی طرف لوٹ جایا کرتے ہیں۔کچھ دیر کے لئے خدا کی طرف حرکت کی اور پھر وہ پتھر بیچ میں معلق ہوئے اور گر گئے اور وہ جو خدا تعالیٰ کی شعاعیں اپنے دل میں رکھتے ہیں جن کو جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے نور کہا جاتا ہے وہ جب بھی کسی ایسی حالت سے ٹکراتے ہیں جو صدمے کا موجب بنتی ہے تو بعینہ اسی شدت اور اسی رفتار کے ساتھ خدا کی طرف واپس مڑنے لگتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: وہ فطرتاً اور طبعاً اعمال حسنہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اپنے اندر ایک قلق اور کرب محسوس کرتا ہے۔جو اسے بیدار کرتا ہے اور نیکیوں کی طرف کھینچے لئے جاتا ہے۔یہ بیداری ہے جو مستقل بیداری ہے عارضی بیداری نہیں ) اور گناہ سے ہٹاتا ہے جس طرح پر ہم ادویات کے اثر کو تجربہ کے ذریعہ سے پالیتے ہیں اسی طرح پر ایک مضطرب الحال انسان جب خدا تعالیٰ کے آستانے پر نہایت تذلل اور نیستی کے ساتھ گرتا ہے اور رتی رہی کہہ کر اس کو پکارتا ہے اور دعا میں مانگتا ہے، تو وہ رویائے صالحہ یا الہام صالحہ کے ذریعہ سے ایک بشارت اور تسلی پالیتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 100 101 الحکم جلد 3 نمبر 13 صفحہ: 3 مؤرخہ 12 اپریل 1899ء) یہ مضطرب الحال جو آستانہ الوہیت پر گرتے ہیں یہ وہی ہیں جن کا میں ذکر پہلے کر چکا ہوں جو دل میں ایک روحانیت کا مرتبہ رکھتے ہیں اور وہی روحانیت کا مرتبہ ہے جو انہیں پھر ہمیشہ خدا کی طرف مائل رکھتا ہے ورنہ یہ اس کی ہمیشگی کی تو فیق ممکن نہیں۔