خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 722 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 722

خطبات طاہر جلد 17 722 خطبہ جمعہ 16اکتوبر 1998ء تو بہ کہ اس کے بعد ان اعمال کا کوئی دھیان ہی دل میں نہ آئے جن اعمال سے تو بہ کی ہے، خیال بھی نہ گزرے اور یہ تو بہ تب ہی ممکن ہے اگر ان اعمال کی کراہیت ، ان کی بدی، ان کی نحوست کا انسان کو سچا علم ہو۔اب یہ جو مضمون ہے تو بہ النصوح کا اسے پانا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ درست ہے کہ اللہ کے مومن بندے اپنے بعض اعمال کی بدی سے آگاہ ہو جاتے ہیں لیکن جزوی طور پر ، اور جزوی طور پر جن سے آگاہ ہو جاتے ہیں ان کو واقعہ چھوڑ بھی دیتے ہیں مگر جیسا کہ میں بارہا عرض کر چکا ہوں یہ ایک جاری سفر ہے۔ہر اہل اللہ کے اپنے اپنے درجے اور مراتب ہیں، ان کے مطابق یہ سفر ہمیشہ باقی رہتا ہے لیکن تو بتہ النصوح ایک اور چیز کا نام ہے۔تو بتہ النصوح کا مطلب ہے کہ کلیہ تمام اعمال سیئہ ، تمام بدیاں اس طرح بھیانک طور پر انسان کے سامنے ننگی ہو کر آجاتی ہیں کہ ان میں سے ایک کے ساتھ بھی پھر رغبت باقی نہیں رہتی۔یہ بدی کی طرف رغبت کا نہ ہونا، آگے ایک بہت مشکل مضمون کا تقاضا کر رہا ہے جو مشکل بھی ہے اور آسان بھی۔آسان ان معنوں میں ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اگر اللہ سے تعلق سچا ہو جائے تو پھر ایک توبتہ النصوح کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ہر وہ چیز جو اللہ کے تعلق کی راہ میں حائل ہوتی ہے وہ مکروہ اور نہایت گندی دکھائی دیتی ہے۔جو بھی اس تعلق کو توڑنے والی چیز ہو انسان اس سے تعلق توڑ لیتا ہے اور دوسرا دعاؤں کے نتیجہ میں اور محنت کے نتیجہ میں۔وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ والصلوة یہ مضمون چل رہا ہے اس کا یعنی تو بۃ النصوح تک پہنچنے کے لئے ایک لمبے سفر کی منازل ہیں جو وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوة ہر قدم پر صبر اور صلوٰۃ کا محتاج کرتی چلی جاتی ہیں۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک نسبتا لمبا اقتباس پڑھتا ہوں۔میں نہیں جانتا کہ اس بقیہ وقت میں یہ ختم ہو سکے گا کہ نہیں مگر جتنا بھی ہے اسی پر آج خطبہ کا اختتام ہوگا۔فرماتے ہیں: ” یادر ہے کہ خشوع اور معجز و نیاز کی حالت کو یہ بات ہر گز لازم نہیں ہے کہ خدا سے سچا تعلق ہو جائے۔(اب متنبہ فرما رہے ہیں سب کو ) یادر ہے کہ خشوع اور عجز و نیاز کی حالت کو یہ بات ہرگز لازم نہیں ہے کہ خدا سے سچا تعلق ہو جائے بلکہ بسا اوقات شریر لوگوں کو بھی کوئی نمونہ قہر الہی دیکھ کر خشوع پیدا ہو جاتا ہے۔“ وہی پتھر والی بات کہ وہ رستے میں گر جاتا ہے پھر۔یہاں سے مضمون شروع ہوتا ہے اور پھر آگے اس مضمون کے باریک در باریک پہلوؤں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام روشنی ڈالتے چلے جاتے ہیں۔