خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 673
خطبات طاہر جلد 17 673 خطبہ جمعہ 25 ستمبر 1998ء دیکھ لیں وہ خدا کے نام پر جبر سے بھاگے ہیں اور ان کو اس جبر نے دینی پہلو سے ذرہ بھی فائدہ نہ دیا۔اگر وہ تلوار سے ڈر کر کوئی عبادات بظاہر خدا کی خاطر بجالا رہے ہوں وہ تو تلوار کی عبادات ہیں، ان کا خدا سے کوئی بھی تعلق نہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ جب بھاگتے ہیں تو ایسی قوموں کی طرف بھاگتے ہیں جن کا واقعہ خدا سے کوئی تعلق نہیں ہوتا یعنی خدا کے نام پر جبر تو نہیں کرتے مگر ایسے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں جو خدا سے ڈر کے بھاگے ہوئے ہوں یا خدا والوں سے ڈر کر بھاگے ہوئے ہوں اور اس کے نتیجہ میں کلیہ مادہ پرست بنادیتے ہیں۔پس ایسی قوموں کا میں نے مطالعہ کیا ہے، خصوصاً جرمنی میں بکثرت آباد ہیں، وہ اکثر پھر مادہ پرست ہو جاتی ہیں اور اگر دین نام کی کوئی چیز ان کے اوپر مسلط بھی ہو تو وہ بھی جبری دین ہے۔پس یہ چیزیں دین کا حلیہ بگاڑنے والی چیزیں ہیں۔آنحضرت صلی سیستم جس قطرہ خون کی باتیں کر رہے ہیں ان کا آج کی دُنیا میں مسلمانوں میں بھی نشان دکھائی نہیں دیتا۔اگر ہے تو ان احمدیوں پر اطلاق ہونے والا یہ فرمان نبوی ہے جن کا روزانہ دین کے رستہ میں خدا کی خاطر خون بہایا جاتا ہے۔کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب پاکستان میں کسی نہ کسی طرح احمدیوں کا خون نہ بہایا جا رہا ہو۔عوام ان کو مارتے ہیں ، مولوی اٹھاتے ہیں ان عوام کو کہ ان کو مارو، ان پر پتھراؤ کیا جاتا ہے، ان کو گلیوں میں گھسیٹا جاتا ہے، ان پر چاقوؤں سے حملے کئے جاتے ہیں۔یہ سب کچھ ہو رہا ہے لیکن اس سے بہت زیادہ چیز میں اس قوم کو خدا تعالیٰ سبق کے طور پر دکھلا بھی رہا ہے اور احمدیوں کو یہ فرق پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ان کے قطرے تو خدا کے ہاں مقبول ہیں لیکن جن کے خون شنوں کے حساب سے بہائے جا رہے ہیں ان کا ایک بھی قطرہ خدا کو مقبول نہیں۔کتنے خوش نصیب ہیں کہ وہ ان میں نہیں بلکہ ان میں شامل ہیں جو خدا کی خاطر خون بہاتے ہیں۔پس آنحضور صلی نام کی اس حدیث کو میں دوبارہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔فرمایا: ” دوسرا خدا تعالیٰ کی راہ میں بہایا جانے والا خون کا قطرہ “ اور خون کا ایک قطرہ محاورہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کر رہا ہے کہ بہت کم خون بہانے والے ہوں گے۔وہ آئندہ زمانہ جس کی باتیں ہو رہی ہیں ان میں شاذ ہی خدا کی خاطر خون کے قطرے آنکھوں سے بہیں گے یا جسموں سے بہیں گے تو جب ایک چیز کم ہو جائے تو اس کی قدر بڑھ جایا کرتی ہے۔پس اس پہلو سے اس حدیث کا یہ معنی ہوگا کہ جس دور میں اللہ کے نزدیک اللہ کی خاطر خون بہانے والے بہت کم رہ جائیں گے تو اللہ قطرے قطرے پر پیار