خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 672
خطبات طاہر جلد 17 672 خطبہ جمعہ 25 ستمبر 1998ء سعادت نصیب ہوگئی۔اس کے برعکس آپ کو دُنیا میں اور بھی بہت سے فوج کش مسلمان دکھائی دیتے ہیں جو آپس میں بھی لڑتے ہیں اور بعض دفعہ دوسروں کے خلاف بھی فوج کشی کرتے ہیں یا فوج کشی نہیں بھی کرتے تو فساد برپا کرنے کے لئے بم کے دھماکے ضرور کر دیتے ہیں۔جو ظلم کرنے والے یا فوج کشی کرنے والے ہیں ان کے خون کے قطروں کا یہ ذکر نہیں ہے، نہ ان خون کے قطروں کا ذکر ہے جن کو بعض ظالموں نے اڑا دیا کیونکہ خدا کی خاطر ایسا نہیں کیا گیا۔یادرکھیں یہاں خدا کی خاطر قطرہ بہانے والوں کا ذکر ہے۔پس اس پہلو سے اگر آپ طالبان کی بات کریں تو طالبان جو خون بہاتے ہیں وہ خدا کے منشاء کے خلاف بہاتے ہیں۔اس لئے ان کا اپنا بہنے والا خون کیسے خدا کی رضا جوئی کا موجب بن سکتا ہے جن کی زندگیاں وقف ہوں لوگوں پر ظلم کرنے کے لئے اور ناحق خون بہانے کے لئے۔اگر اس سلسلہ میں ان کا خون بہتا ہے تو ضائع ہو رہا ہے۔وہ زمین کو گندہ کر رہا ہے کیونکہ ہر وہ خون کا قطرہ جو خدا کی منشاء کے خلاف بہایا جائے وہ اس کی ناراضگی کا موجب ہوتا ہے اس کی رضا جوئی کا موجب نہیں ہوتا۔پس ایسی مثالوں سے آپ معاملہ کو مشتبہ نہ ہونے دیں۔ایسے لاکھوں ہیں جو اس طرح بظاہر خدا کی خاطر جہاد کرنے کے لئے نکلتے ہیں لیکن ان کے جہاد کے مقصد فتوحات ہیں جو سیاسی فتوحات ہیں، ان کے جہاد کے مقاصد میں اگر دینی فتوحات ہیں تو ایسی فتوحات ہیں جو آنحضرت سائینی پیہم کے علم میں بھی نہیں تھیں کہ ایسی فتوحات کو اسلامی کہا جا سکتا ہے۔ٹیریٹوریل (Territorial ) یعنی جغرافیائی فتوحات ہیں اور جہاں یہ کہتے ہیں کہ ہم اسلام کی خاطر لڑ رہے ہیں وہاں اسلام کو جبراً نافذ کرنے کی کوشش میں لڑتے ہیں۔اب یہ جبراً اسلام کا نفاذ جو ہے یہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ سلیم کی سنت سے اس طرح ٹکرا رہا ہے کہ آپس میں کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (البقرة: 257) کی آیت سے ٹکرا رہا ہے لَكُمْ دِينَكُمْ وَلِيَ دِينِ (الكفرون: 7) کی آیت سے ٹکرا رہا ہے۔پس یہ اچھی طرح پیش نظر رکھ لیں کہ خدا کی خاطر دین کو جبراً نافذ کرنا خدمت دین نہیں ہے۔یہ دین سے شدید دشمنی ہے کیونکہ جن لوگوں پر جبر ادین نافذ کیا جائے ان کے دل میں دین سے سخت تنفر پیدا ہوتا ہے اور وہ ایسے ملکوں سے بھاگتے ہیں جہاں یہ ہو رہا ہے۔بہت سے پناہ گزین آپ کو جو لاکھوں کی تعداد میں ہیں افغانستان سے بھاگے ہوئے جرمنی یا دوسرے ملکوں میں ملتے ہیں ان سے آپ پوچھ کے