خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 657
خطبات طاہر جلد 17 657 خطبہ جمعہ 18 ستمبر 1998ء مدد کو آتا ہے۔یہ مدد جو ہے اس دُنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی ہے کیونکہ اس دُنیا میں جب بھی مصیبت پڑتی ہے اگر آپ آنحضرت مصلی یہ ایہ اہم کا حوالہ دے کر آپ مالی یہ تم پر درود بھیجتے ہوئے دعا کریں تو وہ دعا ئیں زیادہ مقبول ہوتی ہیں۔پس یہ محض خیال نہیں ہے کہ اس دُنیا میں اب چودہ سو سال بعد ہماری مدد کیسے کر سکتے ہیں۔عملاً مدد کرتے ہیں اور اس مدد کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایک طریق کار بھی سمجھایا گیا۔الہاما آپ کو بتایا گیا کہ یہ دعا کیا کرو: سبحان اللهِ وَبِحَمْدِهِ ، سُبْحَانَ اللهِ العَظِيمِ۔اللّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ 66 (نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ :586) اگر یہ دعا کرو گے تو تمہاری دعائیں لازما قبول ہوں گی کیونکہ اس دعا اور التجا کوسن کر پھر اللہ اپنی نظر تم سے پھیر نہیں سکتا۔یہی طریق حضرت اقدس محمد مصطفی صلی یا پی ایم نے ابن عباس کو سمجھایا ، دوسرے بچوں کو بھی سمجھاتے رہے کہ تمہیں چاہئے کہ تم سب سے پہلے اللہ کی حمد بیان کرو کیونکہ جو کچھ مجھے ملا ہے اسی سے ملا ہے، اس کی تسبیح کے گیت گا ؤ اور اس کے بعد کیونکہ اس کا تعارف میں نے کروایا ہے، جس شان سے وہ مجھ پر جلوہ گر ہوا ہے اور جس شان سے میں نے اسے تم لوگوں سے آشنا کروایا اس کی اور کوئی مثال کہیں دکھائی نہیں دیتی پس فرمایا یہ دو باتیں اکٹھی رکھو تو تمہاری دعائیں قبول ہوں گی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی شدید ضرورت کے وقت خدا تعالیٰ نے الہاماً یہ دعا سکھائی کہ خدا کی تسبیح کے گیت گاؤ، اس کی حمد کے گیت گا ؤ اور اس کی عظمت کے گیت گاؤ۔یہ دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہونے کے باوجود بہت بھاری ہیں ان پر اگر آپ غور کریں تو جتنا بھی غور کریں گے۔آپ کو حیرت ہوتی چلی جائے گی کہ ان میں وسعت کتنی ہے۔سُبحان اللہ و بحمدہ اللہ پاک ہے مگر اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے۔کوئی بھی ایسا منفی پہلو نہیں جو اس میں موجود ہو اور ہر منفی پہلو کے نکل جانے کے نتیجہ میں ایک تعریف کی جگہ خالی ہو جاتی ہے تو سبحان اللہ العظیم کا اصل مفہوم یہ ہے کہ اللہ پاک ہے ان معنوں میں کہ اس میں حمد کے سوا کچھ بھی بھرا ہوا نہیں رہا۔تمام تر حمد ہو گیا ہے اور عظمتیں اس کے نتیجہ میں ملتی ہیں۔سُبحان اللہ العظیم تو ایک سوچنے والا سوچ سکتا ہے کہ اگر وہ عظیم بنا چاہتا ہے تو اس کی پیروی کرے جو عظیم بنا ہے ان دوخو بیوں کی بناء پر زبردستی عظیم نہیں بنا۔