خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 658
خطبات طاہر جلد 17 658 خطبہ جمعہ 18 ستمبر 1998ء جیسے بعض بادشاہ اپنے آپ کو عظیم کہنے لگ جاتے ہیں۔بعض ڈکٹیٹر عظیم بن جاتے ہیں لیکن اپنی صفات کی وجہ سے کوئی تعظیم بن کے دکھائے یہ عظمت ہے۔فرمایا وہ دیکھو سُبحان الله وبحمده پاک ہے اللہ اپنی حمد کے ساتھ اور سُبحان الله العظیم وہ عظیم ہے اس سے بڑا ہو ہی نہیں سکتا۔میں نے غالباً پہلے بھی بیان کیا تھا کہ یہاں اعظم نہیں فرما یا عظیم فرمایا ہے اور تمام اہل لغت جانتے ہیں کہ عظیم زیادہ بڑا لفظ ہے اعظم کے مقابل پر کیونکہ عظیم کا مطلب ہے کوئی اور ہے ہی نہیں تو اس سے مناسبت کیا ہوگی پھر۔ایک ہی ہے جو عظیم ہے اس سے اوپر کا تصور تب ہوا گر کوئی اور بھی عظیم ہو۔تو ان معنوں میں اگر آپ لفظ عظیم کی گہرائیوں میں اتریں اور اس کی وسعتوں پر واقعۂ نظر رکھیں تو عظیم سے بڑھ کر عظمت کا کوئی تصور قائم نہیں ہوسکتا۔پس آنحضرت صلی ا یہ تم نے جب یہ دعا ہمیں سکھا دی تو لازم تھا کہ آنحضرت صلی ایلام کے او پر درود بھیجا جائے جس نے اتنا بڑا خزانہ ہمیں عطا کر دیا اور چھوٹے سے ایک جملہ میں اتنی وسعتیں بھر دیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔پس آنحضرت ملا کہ تم پر درود و سلام بھیجتے ہوئے آپ کو امانت کا حق ادا کرنا آسان ہو جائے گا۔اور جب کسی امانت کی ادائیگی میں مشکل پیش آئے گی یا اور بھی دُنیا میں سو قسم کے ہول ہوتے ہیں ، سو قسم کی وحشتیں آپ کو گھیر لیتی ہیں اس وقت رسول اله ساینا یہ تم عملاً ان معنوں میں آپ کی مدد کریں گے کہ اس وقت آپ کی دعائیں قبول ہوں گی اگر آپ نے امن کے حال میں اس دعا کو یا درکھا ہو۔پس اس بات کو بھی آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ امانتیں امن کے حال میں واپس کی جاتی ہیں اور امن اور امانت کا ایک گہرا تعلق ہے اور اس کا مقبولیت دعا سے بھی ایک گہرا تعلق ہے۔یہ دونوں ایک ہی لفظ ، ایک ہی مادہ سے بنے ہوئے ہیں۔جب انسان امن کی حالت میں کوئی چیز واپس کرے تو اس کا مطلب ہے اس نے دل کی گہرائی سے ، محبت کے نتیجہ میں پیش کر دی، جب امن نہ رہے اور پھر وہ واپس کرے تو یہ مجبوری کی واپسی ہے۔پس اللہ کی امانت کا حق اسوقت ادا کرو جب کہ تمہیں کوئی حالات کی مجبوری اور حالات کے خوف در پیش نہ ہوں۔کوئی خطرہ تمہیں نہ گھیرے ہوئے ہو اس وقت بھی اللہ کی امانت ادا کر رہے ہو تو پھر جب تم خطرہ میں مبتلا ہو گے تو لازماً اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت فرمائے گا۔یہ مضمون ہے جو آنحضرت سی یہ یمن کی شان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تھوڑے لفظوں میں بیان فرماتے ہیں لیکن ان کو سمجھنا ضروری ہے۔