خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 656 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 656

خطبات طاہر جلد 17 656 خطبہ جمعہ 18 ستمبر 1998ء کو ہمارے سیڈ کیسے کہہ سکتے ہیں۔سید تو وہ ہوتا ہے جو قوم کے آگے آگے چلتا ہے۔سید وہ ہے جس کی خاطر قوم اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار رہتی ہے۔تو اگر چہ سید دوسرے معنوں میں بھی ہیں کہ : سَيِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُهُمْ 66 (كنز العمال، الفصل الثاني في آداب السفر۔آداب متفرقة، رقم الحديث : 2937) اور ان معنوں میں بھی ایسے سید ہیں کہ کسی سید نے اپنی قوم کی اتنی خدمت نہیں کی ہوگی جتنی رسول اللہ مان لیا ایلیم نے اپنے وقت میں لوگوں کی اور بعد میں آنے والے زمانہ کے سب لوگوں کی خدمت کی ہے۔اس سے پہلے جو میں اشارے کر چکا ہوں خدمتوں کے ان کی تفصیل میں جانے کا تو وقت ہی نہیں مگر اکثر لوگ سمجھ چکے ہیں کہ ہر باریک سے بار یک ضرورت پر اس ضرورت کو مہیا کرنا یہ بہترین خادم کا کام ہے اور جیسا اچھا سید ہو گا ویسا ہی اچھا خادم بھی ہوگا اور اس کی جب سردار خدمت کر رہا ہو تو جواباً اپنا سب کچھ اس پر نثار کرنے کو دل چاہتا ہے۔جب ماں باپ بچوں کی خدمت کرتے ہیں تو ان کے دل میں یہی جذ بے پیدا ہوتے ہیں تو آنحضرت صلی ایم کے متعلق یہ جو فرما دیا سید تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب سید کہا تو ان سب بار یک باتوں پر نظر رکھتے ہوئے کہا ہے آپ کا ایک جملہ، ایک فقرہ ، ایک لفظ بھی مغز سے خالی نہیں ہوا کرتا تھا۔”ہمارے مولیٰ۔مولیٰ ایک تو اس کو کہتے ہیں جو دوست ہو یعنی آنحضرت صلی ایام کا دوست بنے کی کوشش کرو۔دوسرے مولیٰ اس کو کہتے ہیں جو مصیبت کے وقت کام آنے والا ہو، جس پر انحصار کیا جاتا ہے اور بھی مولیٰ کے بہت سے معنی ہیں اور مولیٰ کا ایک معنی خادم بھی ہے تو سید کے مضمون میں جو خادم کے معنی ہیں وہ بھی اس لفظ مولیٰ میں آجاتے ہیں مگر مولیٰ وہ ہے حقیقت میں، جس کے سپرد انسان اپنی جان کر دے یعنی جو آقا ہو اور اس کی ہدایت کے بغیر انسان اپنے اعضاء کا کوئی حصہ کسی پہلو پہ بھی خرچ نہ کرے جیسے غلام کو اپنے مالک سے نسبت ہوتی ہے ویسے ہی ایک بندہ کو اپنے مولیٰ سے نسبت ہوتی ہے لیکن لفظ مولیٰ بہت وسیع لفظ ہے۔اس کی باریکیوں میں جائیں تو آپ حیران رہ جائیں گے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی سنی ایم سے تعلق کے ہر پہلو کو اس لفظ مولیٰ نے گھیر لیا ہے۔خادم والا حصہ تو میں بیان کر چکا ہوں۔مولی کیسا کہ ہر وقت خدمت پر مامور اور وہ مولیٰ جو خدمت پر مامور ہو ہمہ وقت انسان کا فرض ہے کہ وہ اس کی خدمت پر مامور رہے پھر جب ضرورت پڑے تو وہ