خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 655 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 655

خطبات طاہر جلد 17 655 خطبہ جمعہ 18 ستمبر 1998ء نے ہمیں بلایا ہے اور متوجہ فرمایا ہے کہ اپنی امانتوں کو جہاں جہاں بھی خرچ کرتے ہو ، جس مصرف میں بھی لاتے ہو دیکھو کہ ان رستوں کی پیروی کرتی ہوئی گزرتی ہے جن رستوں کی پیروی آنحضرت صلی ا یستم نے فرمائی۔چنانچہ آپ صل للہ یہ ستم کا ہرلمحہ بنی نوع انسان کے لئے وقف تھا اور بنی نوع انسان کی ہمدردی میں ایسی ایسی آپ سی نا ہی تم نے نصیحتیں فرما ئیں اور ایسا کردار دکھایا کہ عمر بھر آپ اس پر غور کرتے چلے جائیں اور یہ سرمایہ ختم نہیں ہو سکتا۔چودہ سو سال سے زائد عرصہ ہو گیا آنحضرت صلی لا کہ ہم نے نہ صرف خود امانتوں کا حق ادا کیا بلکہ ہمیں بھی بتایا کہ تمہارے بدن کی بھی تم پر یہ یہ امانتیں ہیں اور ان کا اس طرح خیال رکھو۔صفائی کی تلقین فرمائی اور ہر قسم کی صفائی کی تلقین فرمائی یہاں تک کہ آپ کے بدن پر ایک میل کا ذرہ بھی باقی نہ رہے۔یہ امانت کا حق ادا کرنے میں داخل بات ہے۔ایسا بدن ہو تو بیماریوں سے پاک ہوگا۔ایسے بدن کو بہت کم خطرہ ہوتا ہے بیماریوں کا لیکن جیسا کہ ایک دفعہ پہلے میں بیان کر چکا ہوں سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخنوں تک جتنے اعضاء اور ان کے بار یک حصے ہیں ہر ایک کے متعلق رسول اللہ لی ایم کی تعلیم موجود ہے۔پس دیکھیں امانت کا حق کیسے ادا فرمایا۔جو کچھ اپنے پر طاری فرما یا اپنی امت کو ہدایت دی اور قیامت تک کے لئے امت کو اس کا اہل بنا دیا کہ وہ امانت کا حق ادا کر سکے۔پھر دل کی حفاظت ، زبان کی حفاظت، دوسرے اعضاء کی اور خواہشات اور تمناؤں کی حفاظت اور پھر اس حفاظت میں دعا ئیں سکھائیں اور دعاؤں کا مضمون بھی زندگی کے ہر شعبہ پر حاوی ہے۔اسی طرح اگر آپ امانت کے مضمون کو سمجھیں، آپ کی زندگی ہرلمحہ سنورتی چلی جائے گی، ناممکن ہے کہ ایک مقام پر ٹھہری رہے اور رسول اللہ لال ایام کے حوالہ کے بغیر یہ ہو ہی نہیں سکتا۔یعنی اس میں فانی ہو کر اس کی راہ میں وقف کر دیتا ہے۔۔۔۔۔اور یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طور پر ہمارے سید ہمارے مولیٰ ہمارے ہادی نبی اُمّی صادق مصدوق 66 محمد مصطفی سلیشیا کی تم میں پائی جاتی تھی۔“ آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ : 161 تا162) اس میں ایک ایک لفظ قابل توجہ ہے یعنی ایک تعریف کا کلمہ ہے مگر ان تعریف کے کلمات میں ہر ایک میں ہمارے لئے سبق ہے۔ہمارے سید اگر ہم آپ صلی ا یہ تم کے پیچھے نہیں چلیں گے تو آپ سنی میں ہی یتم