خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 654 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 654

خطبات طاہر جلد 17 654 خطبہ جمعہ 18 ستمبر 1998ء نہیں کر سکتا۔جو شخص اپنے اعضاء کو بے محل استعمال کرتا ہے اور ان کو ضائع ہونے سے بچانے کی ہر ممکن کوشش نہیں کرتا وہ بھی امانت کا حق ادا نہیں کرتا۔پس ہمہ وقت اس کوشش میں لگے رہنا کہ ہمارے اعضاء اور قویٰ اس حالت میں خدا کی طرف لوٹیں کہ جس حال میں اس نے دئے تھے اس سے جہاں تک ممکن ہو کم درجہ نہ ہوں ورنہ امانت کیسے واپس ہوگی۔اگر کسی کی امانت میں سے آپ کچھ کھا چکے ہوں اور پھر وہ واپس کریں تو وہ ٹوٹی پھوٹی دے تو دی امانت کی واپسی کا حق ادا نہیں کیا۔آنحضرت صلی اینم کی یہ خاص شان ہے کہ آپ صلی لی ایم نے اپنے تمام قومی کی بہت گہری نظر سے حفاظت فرمائی ہے۔اپنے دماغ ، دل ، اپنے اعضاء کی اور اس غرض سے حفاظت فرمائی ہے کہ جب میں اسے خدا کی راہ میں خرچ کروں گا تو جو کچھ مجھے دیا تھا اس سے کم خرچ نہ کروں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون کی آخری تعریف یہ فرماتے ہیں: ”اس میں فانی ہوکر اس کی راہ میں وقف کر دیتا ہے۔“ پس آپ کی امانتیں بھی خدا کو تب واپس لوٹیں گی جب آپ اپنے دائرہ میں رہتے ہوئے جو بھی امانتیں آپ کے سپرد کی گئی ہیں پہلے ان کی حفاظت کریں، ان کا خیال رکھیں اور ہر وقت واپسی کے لئے اس پہلو سے تازہ دم رہیں کہ جہاں جہاں بھی اسے واپس کرنے کا حکم آئے اسے اسی طرح واپس کرتے چلے جائیں اور یہ حکم بنی نوع انسان کے تعلق میں بھی آتا ہے۔ہمہ وقت بنی نوع انسان پر جو آپ کے حقوق ہیں آپ کے ماحول کے آپ پر حقوق ہیں، آپ کے خاندان کے، آپ کے عزیزوں اور اقرباء کے آپ پر حقوق ہیں ان سب کے حقوق کی ادائیگی امانت کی ادائیگی ہے۔پس امانت اس طرح ادا ہوتی ہے کہ پورا رستے میں کام کرتی چلی جاتی ہے، خرچ ہو رہی ہے اور اگر امانت اس طرح ادا نہ ہوتو وہ فائدے کی بجائے نقصان پہنچائے گی۔اس کی مثال بجلی کی سی ہے۔بجلی کو اگر اس طرح لوٹایا جائے کہ اس کی واپسی کے وقت اس کی طاقت کسی نیک مصرف میں کام آئے تو یہ امانت کا حق ادا کرنے کی ایک بہت اعلیٰ مثال ہے۔اب بلب میں سے ہو کر اگر بجلی کی قوت ، بجلی کی رودوسری طرف مائل ہوتی ہے تو رستے میں روشنی پیدا کرتی چلی جارہی ہے اور اگر صحیح رستہ اختیار نہیں کرے گی تو آگ لگ جائے گی اور قوت بھی ضائع ہو جائے گی اور ارد گرد ماحول کو بھی وہ آگ لگا دے گی اور ماحول کو بھی بھسم کر سکتی ہے۔پس یہ باریک راہیں ہیں تقویٰ کی جن کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام