خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 652
خطبات طاہر جلد 17 652 خطبہ جمعہ 18 ستمبر 1998ء سپردم به تو مایه خویش را تو دانی حساب کم و بیش را ( حکیم نظام گنجوی ) اس لئے شہداء کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ بخشے گئے۔ان کے پہلے اگر گناہ بھی تھے اگر غفلتیں تھیں کو تا ہیاں تھیں تو زندگی کے دوران ایسی چیزیں ہو جاتی ہیں کہ انسان امانت کا حق پورا ادا نہیں کر سکتا مگر جب خدا نے مانگ لی تو پھر اس کے سپرد کرنے کے نتیجہ میں پہلی ساری غفلتیں معاف ہو جاتی ہیں اور یہ بوجھ سر سے اترتا ہے۔گلے سے تو نہیں کیوں کہ اس میں دوسرا مفہوم آجاتا ہے، اپنے سر اور سینے پر جو بوجھ لئے پھرتے ہیں امانت کا یہ اتار کر فارغ البال ہو جاتے ہیں یعنی پھر اللہ تعالیٰ کا معاملہ ان کے ساتھ ایسا ہے کہ ان کو سنبھالنا ، ان کی حفاظت کرنا ، ان کو ہمیشہ کی زندگی عطا کرنا پھر اللہ کا کام ہے۔چنانچہ آخر پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ اقتباس رکھ رہا ہوں جس سے پتا چلتا ہے که در اصل تو امانت دار صرف ایک ہی انسان تھا جس نے امانت کے تمام باریک تر حقوق ادا کئے اور الامانۃ اسی کے سپرد کی گئی باقی سب اس کے ذیل میں آنے والے لوگ ہیں۔فرمایا: امانت سے مراد انسان کامل کے وہ تمام قومی اور عقل اور علم اور دل اور جان اور حواس اور خوف اور محبت اور عزت اور وجاہت اور جمیع نعماء روحانی و جسمانی ہیں جو خدا تعالیٰ انسانِ کامل کو عطا کرتا ہے۔“ اب دیکھیں کتنی لطیف تحریر ہے کہ روح وجد میں آجاتی ہے اسے پڑھ کر۔امانت سے مراد ایک تو وہ امانت ہے جو ہر کس و ناکس ، ہر چھوٹے بڑے کو عطا ہوتی ہے لیکن وہ امانت گلی امانت نہیں ہے۔وہ امانت جس میں ساری کائنات کے حقوق ادا کرنے ہوں وہ اصل امانت ہے اور جتنی بڑی امانت ہو اتنے بڑے اعضاء بھی دینے چاہئیں۔اتنے بڑے دل اور دماغ اور اعصاب کی قوتیں بھی عطا ہونی چاہئیں۔تو ان معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ امانت حقیقت میں اگر دیکھی جائے تو صرف ایک ہی شخص کو دی گئی یعنی حضرت محمد رسول اللہ صلی ہی تم کو اور اس شخص کو دی گئی جس کے ساتھ اس امانت کو اٹھانے کے قومی بھی دئے گئے۔اب یہ مضمون قرآن کریم میں ہر طرف مختلف صورتوں میں پھیلا پڑا ہے۔مثلاً فرمایا: لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرة: 287) کسی پر اس کی حیثیت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔تو امانت بھی ایک ہی طرح کی ہر ایک کو نہیں دی گئی۔