خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 653
خطبات طاہر جلد 17 653 خطبہ جمعہ 18 ستمبر 1998ء ہر ایک کے قومی اس کے حواس اس کی فطری طاقتوں کو پیش نظر رکھ کر ٹکڑا ٹکڑا امانتیں دی گئی ہیں۔پس اس طرح آپ دیکھیں تو ایسے لوگ جو سلوک کا سفر شروع کرتے ہیں ابھی ان کی امانت اس حد تک چھوٹی ہوتی ہے اور جو اس سلسلہ میں آگے بڑھ جاتے ہیں اسی قدر ان کی امانت بڑھتی چلی جاتی ہے اور اسی قدر اللہ تعالیٰ ان کے قومی اور حواس کو بھی وسعت عطا فرماتا ہے۔پس اس پہلو سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آنحضرت صلی ا یتیم کی مثال پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس سے مراد انسان کامل کے تمام قویٰ ہیں جو خدا تعالیٰ انسان کامل کو عطا کرتا ہے۔اور پھر انسان کامل بر طبق آیت إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْآمَنَتِ إِلَى أَهْلِهَا (النساء:59) اس ساری امانت کو جناب الہی کو واپس دے دیتا ہے۔“ اب حضرت محمد رسول اللہ صلی شما یتیم کے سوا ایک بھی وجود ایسا نہیں، نہ انبیاء میں ملتا ہے ، نہ انبیاء سے باہر جس نے تمام تر امانت سو فیصدی لوٹا دی ہو اور وہ امانت جس کی تعریف میں زمین و آسمان کی ذمہ داریاں آجاتی ہیں۔پہلے انبیاء نے جو امانت لوٹائی وہ محدود امانت تھی وہ کلیۂ ساری کائنات پر حاوی اور پھیلی ہوئی امانت نہیں تھی ایک شخص ہے جس کو خدا تعالیٰ نے امین بنایاعالمین کے لئے اور وہی شخص ہے جس کو وہ قومی عطا فرمائے جو اس ساری امانت کا بوجھ اٹھالے اور پھر اسے خدا کے حضور پیش کر دیا۔فرماتے ہیں: اس ساری امانت کو جناب الہی کو واپس دے دیتا ہے یعنی اس میں فانی ہو کر اس کی راہ میں وقف کر دیتا ہے۔“ اب یہ وہی پہلو ہے جس کے متعلق پہلے میں بتا چکا ہوں۔امانت واپس کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ امانت یعنی جان سب قولی کو کو بیٹھے ، جو اس سے جاتا رہے ہرگز یہ مراد نہیں۔بلکہ مراد یہ ہے ” اس میں فانی ہو کر اس کی راہ میں وقف کر دیتا ہے۔یعنی جتنی بھی انسانی صفات ہیں آنحضرت سلیہ ایام میں یہ سبق سکھاتے ہیں کہ امانت واپس کرنے سے مراد یہ ہے کہ ان کی حفاظت کرو اور صرف خدا کی راہ میں خرچ کرو اس طرح خدا کو امانت واپس کی جاتی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اپنے حواس کی بھی حفاظت کرنی ضروری ہے اور جو شخص اپنے حواس کی حفاظت سے غافل رہتا ہے وہ بھی امانت کا حق ادا نہیں کرتا۔جو شخص اپنے دل اور دلی جذبات کی حفاظت سے محروم رہتا ہے وہ بھی امانت کا حق ادا