خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 651
خطبات طاہر جلد 17 651 خطبہ جمعہ 18 ستمبر 1998ء کو پورا کرنے کی خاطر دی ہے اس طرح واپس کرو کہ وہ عظیم مقاصد ساتھ ساتھ پورے ہوں۔پس جب اللہ تعالیٰ جہاد میں بھی جان طلب کرتا ہے تو مقاصد کو پورا کرتے ہوئے جان دینی پڑتی ہے ورنہ اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا ایک بڑا گناہ بن جاتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی مضمون کے پیش نظر فرمایا: ”ہماری جان اس کی امانت ہے اور وہ فرماتا ہے کہ تُؤَدُّوا الْآمَنَتِ إِلَى أَهْلِهَا۔(النساء: 59) آسمانی فیصلہ، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ : 338 حاشیہ) اب تُؤَدُّوا الآمنتِ إِلَى أَهْلِهَا کا ایک مضمون تو وہ ہے جو عام طور پر حکام کی نسبت سے سمجھ آتا ہے اور سمجھایا جاتا ہے جو کسی کا اہل ہے اس کو امانت دو مگر سب سے زیادہ اہل تو اللہ ہے کیونکہ اللہ ہی نے امانت عطا فرمائی تھی۔پس جو سب سے زیادہ اہل ہے اس کے حضور پیش کرو اور جب مانگتا ہے تو پھر طوعی طور پر پیش کرو۔اس طرح پیش نہ کرو جس طرح حکام پھر ز بر دستی تمہاری جانیں لے لیتے ہیں۔بعض دفعہ جنگی ضرورتوں کے وقت حکام جن کو آپ نے امانت سپرد کی ہے یعنی حکومت کی طاقت آپ کی طرف سے ان کو ملی ہے اس امانت میں بعض دفعہ قومی مفادات کے پیش نظر جانیں طلب کی جاتی ہیں اور آپ یہ امانت دے بیٹھے ہیں حکام کو ، پھر جب وہ طلب کرتے ہیں تو پھر زبردستی لیتے ہیں۔اللہ کی یہ شان ہے کہ وہ ایسے موقع پر زبردستی نہیں لیتا بلکہ آزمائش کرتا ہے۔انہی کی جانیں قبول کرتا ہے جو از خود خوشی سے اس کے حضور پیش کرنے پر حاضر ہوں۔بلکہ اتنی لذت محسوس کریں کہ اگر جانیں قبول نہ کی جائیں تو غمزدہ ہو جائیں، ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگیں۔یہ امانت کی واپسی ہے جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام بلا رہے ہیں کہ اصل اہل تو اب آیا ہے یعنی اللہ۔جب وہ مانگتا ہے تو دوڑ دوڑ کر خوشی کے ساتھ اس کے حضور پیش کرو اور اس کے نتیجہ میں انسان پر بوجھ نہیں پڑتا بلکہ بوجھ ہلکا ہوتا ہے۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ جب بھی کوئی شخص آپ کے پاس امانت رکھواتا ہے اس کی حفاظت پر آپ کو ضرور کچھ محنت کرنی پڑتی ہے، خیال رکھنا پڑتا ہے۔جب تک وہ امانت واپس نہ لے آپ کے دل پر اس امانت کا بوجھ رہتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے جب امانت واپس مانگتا ہے تو شکر کریں کہ اس بوجھ کو ہم لئے پھرتے ہیں اور اس کے حقوق ادا نہیں کر رہے تھے اب اکٹھی ہم امانت جب سپرد کر دیں گے تو پھر وہی حقوق کا مالک ہے جیسے کہتے ہیں: