خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 602 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 602

خطبات طاہر جلد 17 602 خطبہ جمعہ 28 اگست 1998ء کے حق دار کو حق دینے کی بجائے اپنے عزیز، اپنے رشتہ دار، اپنے دوست کو وہ حق دے دے تو یہ بے ایمانی ہے اور اس کو علم ہی نہیں کہ وہ کتنی بڑی بددیانتی میں مبتلا ہورہا ہے۔اگر بنیادی طور پر جس کو Grass Root کہا جاتا ہے، اس بات کی احتیاط کی جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتی نظام آخر تک سنور تا چلا جائے گا اور کسی موقع پر بھی کسی غلطی کا احتمال نہیں رہتا۔ابھی پچھلے دنوں ایک مجلس میں لارڈ میئر کے نمائندہ آئے ہوئے تھے وہ بڑے ذہین آدمی تھے۔انہوں نے باریکی سے مجھ سے جماعت کے متعلق سوال کئے تو اس بات سے ان کے دل پر بہت گہرا اثر پڑا کہ اگر آپ بنیادی طور پر دیانت سکھا رہے ہیں اور دیانت سے ووٹ دینا سکھا رہے ہیں تو پھر ساری دُنیا کو چاہئے کہ آپ سے ڈیما کریسی سیکھے کیونکہ جوڈیما کریسی کی روح ہے وہ سوائے جماعت احمدیہ کے اور کہیں نظر ہی نہیں آتی۔تو آنحضرت مسیله ای ستم چودہ سو سال پہلے وہ بات کر رہے ہیں جو آج تک بڑے بڑے دانشوروں کو بھی نصیب نہیں ہو سکی۔جب تک دیانت سے مشورہ دینے کی عادت نہ ہو ڈیما کریسی کا خیال ہی عنقا ہے، اس کا کوئی وہم و گمان بھی نہیں کرنا چاہئے۔پس اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ہم وہ جماعت ہیں جن میں یہ امکانات روشن ہو چکے ہیں کہ ہم تمام دنیا کو ڈیما کریسی سکھا ئیں یعنی آنحضرت صلی للہ یہ تم کے فرمودات کے مطابق ایسا نظام بنانا سکھا ئیں جس پر اعتماد کیا جا سکتا ہو۔اگر شروع میں اعتماد نہیں کیا جاسکتا تو آخر تک پھر یہ اعتماد اٹھتا چلا جاتا ہے۔یہ مضمون بہت وسیع ہے اور میں نے بہت غور کر کے دیکھا ہے اس پر بہت لمبی تقریریں بھی ہوسکتی ہیں محض لفاظی کے لئے نہیں بلکہ مضمون کے باریک پہلو سمجھانے کی خاطر لیکن اس خطبہ میں جو مضمون سمیٹنا چاہتا ہوں وہ پھر میرے ہاتھ سے نکل جائے گا۔اس لئے میں اس چیز کو اس وقت چھوڑتا ہوں۔ایک اور حدیث ترمذی سے لی گئی ہے۔عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : أَذِ الأَمَانَةَ إِلَى مَنِ اثْتَمَنَكَ، وَلَا تَخَنْ مَنْ خانك (سنن الترمذي، أبواب البيوع عن رسول الله ﷺ باب ماجاء في النهى للمسلم۔۔۔، حدیث نمبر :1264) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ آنحضرت صلی یا پی ایم نے فرمایا: ”اس شخص کو امانت لوٹا دو جس نے تمہارے پاس امانت رکھی تھی اور اس شخص سے بھی خیانت نہ کرو جو تجھ سے خیانت کرتا ہے۔“