خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 601
خطبات طاہر جلد 17 601 خطبہ جمعہ 28 اگست 1998ء جو کچھ لکھنا ہے بہتر ہے کہ نظام جماعت کی معرفت لکھیں اور امیر کی رائے بھی ساتھ شامل ہو، وہ تحقیق کر کے بتائے کہ کیا کس حد تک کس فریق کا قصور ہے لیکن اس صورت میں بھی میں آخری فیصلہ نہیں کروں گا کیونکہ معاملات بالآخر ، جو بھی قضائی معاملات ہیں بالآخر، مجھ تک پہنچتے ہی اور مجھے فیصلہ دینا ہوتا ہے۔اگر میں پہلے ہی فیصلہ دے بیٹھوں تو پھر آخری صورت میں قاضی کیسے بن سکتا ہوں۔اس لئے میں انہیں سمجھا تا ہوں کہ اس ملاقات میں آپ نے خواہ مخواہ اپنا وقت ضائع کیا کیونکہ آپ ویسے ملتے، کوئی دعا کے لئے کہہ دیتے ، کوئی اچھی بات مجھے سنا دیتے تو یہ وقت ضائع نہ ہوتا لیکن میں اس سے یہ اندازہ ضرور کر لیتا ہوں کہ ابھی بہت سے جماعت میں خائن لوگ موجود ہیں۔اگر لڑ کی قصور وار نہیں تو لڑ کا قصور وار ہوگا ، اگر لڑ کا قصور وار نہیں تو لڑ کی قصور وار ہوگی مگر ہوتا ہے خیانت کے نتیجہ میں۔پس آنحضور صلی یا تم نے جو امانت اور خیانت کا مضمون بیان فرمایا اور اس پر زور دیا اس پر اتنا زور دینے کی ضرورت ہے یعنی اتنی اہمیت دینے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم اس کو اہمیت دیں تو ساری جماعت کا تمام معاشرہ سنور جائے اور اس کے علاوہ جو دنیا سنورتی ہے تو پھر دین بھی سنورتا ہے۔جب دنیا سنورتی ہے تو آخرت بھی سنورتی ہے۔تو باتیں بظاہر چھوٹی چھوٹی ہیں لیکن نتائج ان کے بہت بڑے بڑے نکلنے والے ہیں۔پھر وہ لوگ بھی ہیں جیسا کہ میں نے عرض کیا تھا وہ بعض دفعہ جان کے دھوکا نہیں دیتے لیکن عادت ہوتی ہے اپنی بات کو سجا کے پیش کرنے کی اور اس عادت کے نتیجہ میں وہ بعض دفعہ غلط فہمیاں پیدا کرنے کا موجب بن جاتے ہیں۔پھر ایسے بھی لوگ ہیں جنہوں نے بعد میں مجھے بتایا کہ ہم نے عمداً اس شخص کو دھوکا نہیں دیا تھا یہ بات ذہن سے اتر گئی۔اب اگر میں تسلیم کرلوں کہ وہ بات ذہن سے اتر گئی تو یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ عمد ادھوکا نہیں دیا مگر دھوکا ہو گیا۔اگر باشعور طور پر یہ عادت ہو کہ جو باتیں ذہن سے نہیں اترنی چاہئیں وہ نہ اتریں اور کھول کر بات بیان کی جائے تو پھر یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک شادی دکھوں پر منتج ہومگر ایسا ہو چکا ہے، میرے سامنے ایسے معاملات آتے رہتے ہیں۔پس میں اُمید رکھتا ہوں کہ آپ اس بات کو یا درکھیں گے المُسْتَشَارُ مُؤْتَمَن، یہی وہ نظام ہے جو ہماری جماعت میں رائج ہے۔جب بھی ہم انتخاب کرواتے ہیں تو جس شخص کو انتخاب کے لئے کہا جاتا ہے اس پر اعتماد کیا جاتا ہے کہ جو امانت کا حق دار ہے اس کو وہ امانت دے گا۔اگر وہ امانت