خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 603
خطبات طاہر جلد 17 66 603 خطبہ جمعہ 28 اگست 1998ء وَلَا تَحن من خَانَكَ “ یہ ہے بنیادی بات جو پہلی بات کے علاوہ ہے۔عام طور پر لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو امانت دار ہیں۔کوئی شخص اگر ہماری امانت رکھتا ہے تو ہم اس کی امانت رکھیں گے اور کوئی ہماری امانت واپس کرتا ہے تو ہم اس کی امانت واپس کریں گے مگر اگر کسی نے ہم سے خیانت کی تو پھر ہمارا حق ہے کہ ہم اس سے بھی خیانت کریں۔یہ جھوٹ ہے۔یہ مضمون کا ایک لطیف حصہ ہے جو حضرت اقدس محمد رسول الله ملال کی ایم نے ہم پر روشن فرمایا کہ امانت دار خیانت کر ہی نہیں سکتا۔یہ وہ مضمون ہے کہ امانت اور خیانت اکٹھے ایک دل میں نہیں رہ سکتے۔اس لئے کوئی اس سے خیانت کرے بھی تو وہ خیانت نہیں کر سکتا۔اگر یہ بات ہو تو پھر بہت سے دھو کے جو روزمزہ کی اقتصادی زندگی میں انسان کو ہوتے ہیں ان کا ہونا بھی ممکن نہیں رہتا۔اقتصادی زندگی میں لوگ ایک دوسرے کو دھوکا دیتے ہیں تو یہ سمجھ کر کہ اس نے دیا ہے تو ہم بھی دے سکتے ہیں۔یہ جھوٹ ہے۔دھو کے کے نتیجہ میں دھوکا دینا جائز نہیں اور خیانت کے نتیجہ میں خیانت کرنا جائز نہیں۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی شمالی تم نے کسی ایسے فریق سے جس سے معاہدہ کیا ہو اس سے اس وجہ سے بھی خیانت نہیں کی کہ اس نے خیانت کی تھی۔جب یہ علم ہوا کہ خیانت کی ہے تو اس پر حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی یا کہ تم نے وہ عہد توڑ دیا جو دونوں کو کسی خاص معاہدہ کے لئے پابند کرتا تھا۔فرمایا تم ایسے فریق نہیں ہو کہ تم سے عہد جاری رکھا جا سکے۔خائن کا یہ بدلہ ہے۔اگر کوئی خیانت کرتا ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ میرے اور تمہارے درمیان جو معاملہ تھا، جو ہم نے عہد باندھا ہوا تھا، یہ عہد ٹوٹ گیا۔اب تم اپنا معاملہ کرو جس سے چاہو مگر اس کے باوجود اس سے خیانت کا حق نہیں رکھتا۔کبھی بھی حضور اکرم سنا تم نے کسی سے ادنیٰ بھی خیانت نہیں کی یعنی اپنے دشمن سے بھی جو خائن تھا اس سے بھی خیانت سے پیش نہیں آئے۔اب امانت کے جو باریک پہلو ہیں ان پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی ا یہ تم فرماتے ہیں، یہ سنن ابی داؤد کی حدیث ہے۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ إِذَا حَدَّكَ الرَّجُلُ بِالْحَدِيثِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ (سنن ابی داؤد، کتاب الأدب، باب فى نقل الحديث، حدیث نمبر : 4868) حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی السلام نے فرمایا: ” جب بھی کوئی شخص بات کر کے پلٹ جائے تو وہ بات امانت ہے۔اب یہ بات چھوٹی سی ہے لیکن بہت گہری