خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 559
خطبات طاہر جلد 17 559 خطبہ جمعہ 14 اگست 1998ء بنا ہوا ہے جیب میں روڑے ہیں۔وہ اس لئے تھے کہ اپنے ایک بچے سے جو روڑوں سے کھیلتا اور شور مچارہا تھا آپ نے کہا کہ یہ روڑے مجھے دے دو اور باہر جا کر کھیلو۔جب واپس آؤ گے میں تمہیں دے دوں گا۔وہ روڑے جیب میں ڈال لئے تا کہ ان میں سے کوئی بھی ضائع نہ ہو۔جب وہ بچہ واپس آیا تو وہ روڑے اس کے سپرد کر دیئے۔(سیرت حضرت مسیح موعود از مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی صفحہ :41،40) اب دیکھنے میں ایک بہت چھوٹی بات ہے مگر چھوٹی باتوں ہی سے عظیم باتیں پیدا ہوا کرتی ہیں۔اگر کسی کو اتنا خیال ہے اپنے بچے سے سچا وعدہ کرنے کا کہ اس کے روڑے سنبھالتا پھرتا ہے تو اندازہ کریں کہ باہر کی دنیا میں اس کا کیا حال ہو گا۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کی بے شمار دلیلیں ہیں مگر یہ ایک دلیل بھی ہوشمند کے لئے کافی ہونی چاہئے۔جو وعدوں کا اتنا سچا ہو وہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئیاں بیان کرنے اور دُنیا سے وعدے کرنے میں کتنا سچا نہیں ہوگا۔پس اسی کو اپنا وطیرہ بنائیں اور اپنے بچوں کو خواہ مخواہ جھوٹے لارے نہ دیا کریں۔اپنے گھر میں میں نے بچپن سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس بات کی تاکید رکھی۔ماؤں کی عادت ہوتی ہے میری بیگم مرحومہ بھی ، بے خیالی میں لوگ سمجھتے نہیں کہ جھوٹ ہے، بے خیالی میں بچوں سے وعدے کر دیا کرتی تھیں کہ تمہیں میں یہ دے دوں گی، فلاں چیز دے دوں گی اور جب مجھے پتا چلتا میں وہ ضرور حاصل کر لیا کرتا تھا۔یہ بھی ایک سمجھانے کا طریقہ تھا بجائے اس کے کہ ان کو کہوں کہ آپ نے جھوٹ بولا ہے، سختی کرتا، ان کو سمجھانے کا یہ طریق تھا کہ وہ چیز حاصل کر کے مہیا کر دیتا تھا تا کہ جب بچے واپس آئیں تو ان کے لئے موجود ہو۔تو تربیت کے مختلف رنگ ڈھنگ ہوتے ہیں۔سچی بات کرنے میں ضروری نہیں کہ وہ کڑوی بات بھی ہو ، سچی بات کہنے کے انداز الگ الگ ہیں۔جب سچی بات کرنی ہی پڑے تو خواہ کسی کو کڑوی لگے وہ ضرور کرنی ہے۔لیکن اگر آپ یہ پسند کرتے ہوں کہ اس بات کا کوئی ایسا تکلیف دہ اثر نہ پڑے تو یہ ممکن ہے۔میں نے اپنی زندگی میں بارہا اس کو آزمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے کبھی ساری عمر اپنے بچوں سے کوئی وعدہ نہیں کیا جس کو میں پورا نہ کر سکتا ہوں۔اس کے نتیجہ میں میں خوش ہوں۔میرے بعد اللہ اسی حال پر ان کو قائم رکھے، یہ میری دعا ہے۔آپ بھی اپنے بچوں کے لئے یہی دعا کیا کریں اور جب یہ دعا کریں گے تو اس عمل کے بعد ہونی چاہئے جو اس دعا کے مطابق ہو ورنہ