خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 560
خطبات طاہر جلد 17 560 خطبہ جمعہ 14 اگست 1998ء وہی منافقت والی بات آجائے گی۔آپ کے لئے بھی بچوں کی خاطر دل میں ایسا درد ہونا چاہئے جو اللہ کے فضل کے ساتھ ہمیشہ میں نے محسوس کیا اور میں جانتا ہوں کہ اللہ اس درد کو کبھی ضائع نہیں کرتا، توقع سے بڑھ کر پھل لگاتا ہے۔تو اپنے گھروں میں تجربہ تو کر کے دیکھیں کتنا آسان تجربہ ہے۔بچوں سے پیار ہوا کرتا ہے ان کے حق میں یہ باتیں کرنی ہیں اس میں کونسی مشکل ہے لیکن جو مشکل ہے وہ یہ کہ سر سے ٹالنے کی کوشش نہ کریں بچوں کو ، جب بھی ٹالیں گے ہمیشہ کے لئے وہ ٹل جائیں گے پھر آپ کو ان کی نیکی دیکھنا نصیب نہیں ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے واقعات میں سے جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے بہت بڑے واقعات ہیں اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے وہ واقعات بڑے بیان کئے ہوئے ہیں اور بھی بہت سے صحابہؓ نے واقعات بیان کئے ہوئے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ چھوٹا سا کوئی وعدہ کیا ہے اور پھر وہ بھولے نہیں۔ایک دفعہ ایک صحابی جو غالباً حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ہی تھے سوئے ہوئے تھے اور ان کی آنکھ کھلی تو دیکھا چارپائی کے نیچے فرش پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لیٹے ہوئے ہیں۔وہ گھبرا کر اٹھے! کہ ہیں آپ یہاں لیٹے ہوئے ہیں۔آپ نے فرمایا: نہیں ، گھبراؤ نہیں ، میں تمہاری حفاظت کر رہا ہوں ، اپنے بچوں کے شور سے۔بچوں کو میں نے باہر بھگا دیا تھا اور کہا تھا خبردار جو ادھر آئے میں یہاں ہوں گا۔اس یقین پر کہ میں یہاں ہوں گا ، وہ آپ کو تنگ نہیں کر رہے۔آپ نے کہا اگر میری یہ بات غلط ہوتی، کوئی جھانک کے دیکھ لیتا کہ میں یہاں نہیں ہوں تو اس پر کیا بداثر پڑتا۔ایک تو آپ کی نیند خراب ہوتی ، دوسرا اس کی تربیت بگڑ جاتی۔سیرت حضرت مسیح موعود از مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ،صفحہ:41) اتنا باریک خیال تھا سچی ، صاف اور کھری بات کرنے کا کہ آپ گردو پیش نظر ڈال کر دیکھ لیں۔آپ کو کوئی دوسرا انسان اس باریکی کے ساتھ اپنی باتوں کی حفاظت کرنے والا نہیں ملے گا۔یہ وہ شخص ہے جس کو لوگ جھوٹا بھی کہتے ہیں ، ان کی اپنی بدنصیبی ہے۔وہ جب مریں گے تو اللہ ان سے جو سلوک چاہے فرمائے لیکن ایک باشعور انسان جو گہرائی کی نظر سے کسی کے بیچ کا مطالعہ کرنا چاہتا ہے اسے بڑی باتوں کی بجائے روز مرہ کی چھوٹی باتوں میں اس کا مطالعہ کرنا چاہئے۔بڑی باتوں میں جھوٹ بولا جاتا ہے بڑے بڑے دعاوی میں بڑے جھوٹ بولے جاتے ہیں اور انسان سمجھتا ہے کہ میں ان