خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 558 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 558

خطبات طاہر جلد 17 558 خطبہ جمعہ 14 اگست 1998ء جو ابو جہل والا واقعہ آپ کے سامنے ہے اس میں بھی آپ صلی ای ایم نے جا کر جب کہ وہ شدید مخالف تھا کھری بات کہی اور اس کے دل میں اس کھری بات کا رعب پڑ گیا۔جب بھی کوئی غیر آپ صلی للہ یہ تم کی بات سنتا تھا جانتا تھا کہ سچی بات ہے اور اس کے نتیجے میں منافرت کی بجائے عزت بڑھا کرتی تھی۔پس اپنے گھروں میں یہ تجربہ تو کر کے دیکھو۔اپنے بچوں سے کھری بات کہو اور دیکھو کہ ان کے دلوں میں دن بدن عمر کے ساتھ ساتھ تمہاری عزت بڑھے گی اور اگر یہ نہیں کرو گے تو پھر اولا دہاتھ سے جاتی رہے گی۔آج تک میں نے نہیں دیکھا کہ کوئی اپنے بچوں سے دھوکے کی باتیں کرتا ہو اور بچے پھر ان کی کوئی عزت کرتے رہیں یا آزاد ہونے کے بعد دین سے اور دُنیا سے ہر لحاظ سے ان کے اثر سے باہر نہ نکل گئے ہوں۔جب ان کو توفیق ملتی ہے وہ بڑے ہو کر اپنے ماں باپ کے دائرہ اثر سے باہر نکل جاتے ہیں۔آنحضرت مصلی یہ تم نے اس موضوع پر تین باتیں ایسی بیان کیں جو منافق کی نشانی ہیں۔ان میں سے ایک وہی ہے جس کا ذکر کر رہا ہوں۔فرمایا: " منافق وہ ہے جو جب کوئی وعدہ کرتا ہے تو وعدہ خلافی کرتا ہے۔“ (صحیح البخارى، كتاب الشهادات باب من أمر بأنجاز الوعد،حدیث نمبر :2682) پس سب سے پہلے تو بچوں سے وعدہ کرو تو اس میں وعدہ خلافی نہ کرو۔جو بچوں سے وعدہ خلافی کرے گا وہ باہر بھی وعدہ خلافی کرے گا۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ بچے جو اپنے سب سے پیارے ہوں اور عزیز ہوں ان سے تو آدمی وعدہ خلافی کرتا رہے اور باہر کے وعدے پورے کرے یہ ناممکن ہے، فطرت انسانی کے خلاف ہے۔تو آنحضور سی ایم نے منافق کی یہ علامتیں بیان فرمائی ہیں اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ہوش مند شخص جانتے بوجھتے ہوئے منافقت کی راہ اپنے لئے پسند کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس موضوع پر جو کچھ فرمایا ہے میرا خیال ہے میں اس حصہ کو پیچھے چھوڑ آیا ہوں لیکن اپنی یادداشت کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنا عمل اس بارے میں بیان کر دیتا ہوں۔بہت سے واقعات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں ایسے گزرے ہیں کہ ایک شخص جو بیرونی نظر سے ان کو دیکھے وہ سمجھے گا کہ یہ اللہ کا کیسا نبی ہے جو اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں میں مبتلا رہا ہے۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جیب میں روڑے بھرے ہوئے تھے۔اب ملاں اور بد بخت لوگ ہنسیں گے اور قہقہے لگا ئیں گے کہ یہ نبی