خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 502 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 502

خطبات طاہر جلد 17 502 خطبہ جمعہ 24 جولائی 1998ء بغیر یہ پوچھے کہ آپ کھا چکے ہیں یا نہیں کھا چکے، یہ سنت ابرا ہیمی ہے۔بعض دفعہ لوگ پوچھ کر مہمان کے لئے مشکل پیدا کر دیتے ہیں۔بعض دفعہ تو مہمان کو جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ پوچھنے سے لگتا ہے اس کو تکلیف ہوگی تو کہتا ہے نہیں ہم کھا چکے ہیں اور مجھے توقع نہیں کہ جماعت کسی پہلو سے بھی، کسی وقت بھی جھوٹ سے کام لے اور اگر وہ جھوٹ بولیں تو ان کو بتانا پڑتا ہے جو ان کے لئے شرمندگی یا الجھن کا موجب بنتا ہے کہ ہمارے یہ کہنے سے کہ ہم کچھ کھا کے نہیں آئے میزبان کو تکلیف ہوگی۔تو دیکھیں حضرت ابراہیمؑ نے پوچھا نہیں ، کھا چکے ہو نہیں کھا چکے؟ فوراً اندر گئے اور ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔جب انہوں نے اس بچھڑے کو ہاتھ نہ لگایا تو اس کے نتیجے میں بعض آیات سے پتا چلتا ہے کہ حضرت ابراہیم خوفزدہ ہو گئے کیونکہ مہمان اگر کھانے سے ہاتھ کھینچ لے تو یہ بھی ایک دستور ہے کہ بعض دفعہ اس لئے ہاتھ کھینچا جاتا ہے کہ آنے والے کا ارادہ شر پہنچانے کا ہوتا ہے۔اس آیت میں اس کی تفصیل تو بیان نہیں ہوئی لیکن قوم منگرون میں شاید یہ اشارہ ہو۔بہر حال اب جو مہمان ہمارے آنے والے ہیں یہ بہت معزز مہمان ہیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان ہیں اور جیسا کہ میں آگے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعض روایات پیش کروں گا آپ سے وہ توقع کی جاتی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے مہمانوں کے متعلق رویہ اختیار فرمایا کرتے تھے لیکن سب سے پہلے میں مہمان نوازی کے تعلق میں کچھ احادیث آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔مسند احمد کی روایت ہے جو حضرت شریح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان ہوئی ہے۔آپ نے کہا کہ حضور صلی ا یہ تم نے فرمایا کہ: ” جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ مہمان کی عزت کرے۔“ اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔یہ بہت گہرا مضمون ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کی بھی ایک مہمان نوازی ہونی ہے۔جو اللہ نے کرنی ہے۔تو جو اللہ کے بندوں سے اعلیٰ مہمان نوازی کا برتاؤ کرے وہ یہ توقع رکھ سکتا ہے کہ میرا اللہ بھی میری اعلیٰ مہمانی