خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 503
خطبات طاہر جلد 17 503 خطبہ جمعہ 24 جولائی 1998ء فرمائے گا۔تو بظاہر ان دو باتوں کا تعلق نہیں کہ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے ضرور مہمان نوازی کرے مگر یہ بات اس میں مضمر ہے۔اس لئے فرمایا: ”ضروری ہے کہ وہ مہمان کی عزت کرے اور ایک دن رات سے تین دن رات تک اسے مہمان رکھے۔“ یہ تو مہمان کا حق ہے کیونکہ مسافر تین دن کا مسافر ہوتا ہے اتنا تو لازماً ہر مہمان کو حق دینا چاہئے کہ تین دن تک وہ آپ کے پاس رہے اور اس کی مہمانی کا حق ادا ہو۔فرمایا: اگر اس سے زائد عرصہ مہمان اس کے پاس ٹھہرتا ہے اور اس کی مہمان نوازی کرتا ہے تو یہ اس کی طرف سے صدقہ اور نیکی کی بات ہوگی۔“ اس لئے تین دن کے بعد مہمان کو نکالنا نہیں ہے بلکہ یہ ارشاد ہے کہ وہ تو فرض ہے وہ نیکی میں اس طرح شمار نہیں ہوسکتا۔یہ تو تم پر لازم ہے لیکن اس کے علاوہ اگر تم چاہتے ہو کہ نوافل سے کام لو، نیکی سے کام لو تو پھر مہمان کو اس سے زیادہ ٹھہرنے کی ترغیب دو یعنی اپنے رویہ سے اس سے ایسا سلوک کرو کہ وہ زیادہ عرصہ کے لئے ٹھہر جائے لیکن مہمان کا بھی تو کچھ فرض ہے۔فرمایا: اور مہمان کے لئے مناسب نہیں کہ وہ تین دن سے زیادہ بلا اجازت ٹھہرے۔“ (مسند احمد بن حنبل، مسند المكثرين من الصحابة۔حديث أبي شريح الخزاعي ، مسند نمبر :16374) تو دونوں کے فرائض اور دونوں سے جو تقاضے ہیں دونوں کو بیان فرمایا اور میزبان کو تکلیف میں ڈالے سے مراد یہ ہے کہ اگر میزبان نیکی کی خاطر کہے بھی کہ آپ ضرور ٹھہریں تو مہمان کو اتنا خیال کرنا چاہئے کہ بعض میز بان تکلف سے بھی کہا کرتے ہیں اس لئے اپنی طرف سے وہ اس بات کو خوب کھول دے کہ میں ٹھہر چکا ہوں جتنا ٹھہر نا تھا اب مجھے اجازت دیں لیکن جو مہمان پاکستان سے تشریف لائے ہیں ان کا عرصہ تین دن کا نہیں۔جماعت UK نے یعنی United Kingdom کی جماعت نے ان کے لئے پندرہ دن کی مہمانی کی ذمہ داری قبول کی ہے اس لئے وہ سارے مہمان جو باہر سے آئے ہیں پندرہ دن کے لئے جماعت United Kingdom کے مہمان ہوں گے خواہ یہ مہمانی ان کی ذاتی ہو یعنی جماعت کی طرف سے مہمان کا انتظام نہ ہو تو یہی سمجھیں کہ وہ جماعت ہی کی طرف سے مہمانی ہے کیونکہ ہر شخص جو جماعت کا حصہ ہے اس پہ بہت سی ذمہ داریاں ہیں۔وہ جماعت کی