خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 501 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 501

خطبات طاہر جلد 17 501 خطبہ جمعہ 24 جولائی 1998ء میز بانی اور مہمانی ابراہیمی سنت ہے جلسہ کے میزبانوں اور مہمانوں کو اہم نصائح (خطبہ جمعہ ارشاد فرمودہ 24 جولائی 1998ء بمقام مسجد فضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ کی تلاوت کی: هَلْ النكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ الْمُكَرَمِينَ إِذْ دَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالُوا سلمًا قَالَ سَلَمُ : قَوْمُ مُنْكَرُونَ فَرَاغَ إِلَى أَهْلِهِ فَجَاءَ بِعِجَلٍ (التريت : 2725) سمين پھر فرمایا: ان آیات کو میں نے آج کے خطبہ کا عنوان اس لئے بنایا ہے کہ میز بانی اور مہمانی کے موقع پر ابراہیمی سنت کا تذکرہ کروں اور جماعت سے توقع کروں کہ اسی سنت کو زندہ کریں۔جو مہمان حضرت ابراہیم کے گھر میں داخل ہوئے وہ دراصل فرشتے تھے لیکن انسانی روپ میں، اس لئے حضرت ابراہیم نے ان کو پہچانا نہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ مکرمین مہمان تھے، بہت معزز مہمان تھے باوجود اس کے کہ حضرت ابراہیم نے ان کو پہچانا نہیں مگر اتنا کہا کہ ہیں اجنبی اور اس پہلو سے اجنبی ہوتے ہوئے بھی ان کی مہمانی کا پورا حق ادا کیا۔پس اس دفعہ جلسہ پر بہت سے جانے پہچانے بھی آئیں گے اور بہت سے اجنبی بھی ہوں گے۔جو اجنبی ہوں اُن کا بھی ایک حق ہے اور جو کوئی کسی کے گھر آتا ہے اور گھروں کے علاوہ جو جماعت کا مہمان بن کر جلسہ پر آتا ہے اس کے حضور کچھ پیش کرنا