خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 492 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 492

خطبات طاہر جلد 17 492 خطبہ جمعہ 17 جولائی 1998ء جا کر بیان فرمائیں گے کہ تم خدا کی خاطر چھپنے کی کوشش بھی کرو تو امر واقعہ یہ ہے کہ اگر تم سنجیدگی اور اخلاص سے چھپنے کی کوشش کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں چھنے نہیں دے گا۔تمہاری نیکیوں کو اس طرح ظاہر فرمائے گا کہ لوگ ان کی مثال پکڑیں۔پس نیکیوں کی خاطر اللہ تعالی گویا تمہاری نیکیوں سے پردہ اٹھا دے گا۔تو خدا کے پردے اٹھانے کے رنگ بھی عجیب ہیں کبھی وہ نیکیوں سے پردے اٹھاتا ہے کبھی لوگوں کی بدیوں سے بھی پردے اٹھاتا ہے۔یہی دعا کرنی چاہئے کہ اگر ہماری نیکیاں اس لائق ہیں کہ ان سے پردہ اٹھا نا خدا کے نزدیک بنی نوع انسان کے فائدے کے لئے ہو تو تب اللہ ان سے پردہ اٹھائے مگر اس رنگ میں نہ اٹھائے کہ ہمیں کوئی نقصان پہنچے۔اگر اس اخلاص کے ساتھ آپ اپنی نیکیوں کو چھپانے کی کوشش کریں گے تو ہمیشہ اللہ تعالیٰ اس رنگ میں پردہ اٹھائے گا کہ آپ کے اخلاص کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا لیکن بنی نوع انسان کو اور آپ کی آئندہ نسلوں کو فائدہ پہنچے گا۔پس یہ ان حضرت صوفی احمد جان صاحب کے صاحبزادہ ہیں صاحبزادہ پیر افتخار احمد صاحب۔بڑے لمبے قد کے تھے اور ان سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بہت سی روایات ہیں اور ان کا اپنا ایک رنگ عجیب تھا۔صاحبزادہ پیر افتخار احمد صاحب اپنے والد سے متعلق تحریر فرماتے ہیں: ”ہمارے گھر میں خرچ نہ تھا۔میرے والد صاحب نے میری والدہ سے پوچھا آتا ہے؟ کہا نہیں۔دال ہے؟ جواب نفی میں ملا۔ایندھن ہے؟ وہی جواب تھا۔جیب میں ہاتھ ڈالا دوروپے تھے۔فرمانے لگے اس میں تو اتنی چیز میں پوری نہیں ہوسکتیں میں ان روپوں سے تجارت کرتا ہوں۔وہ دورو پے کسی غریب کو دے کر نماز پڑھنے مسجد چلے گئے۔( یہ ان کی تجارت تھی ) راستے میں اللہ تعالیٰ نے دس روپے بھیج دئے۔“ وہ وہ دنیا ستر آخرت کا ایک یہ بھی مطلب ہے۔مگر یہاں دو کے بدلے دس ملے ہیں اس کا اُس سے تعلق نہیں۔دو کے بدلے دس اس لئے ملے کہ ان کو جو ضرورت تھی بعینہ دس روپے میں پوری ہوتی تھی۔اللہ تعالیٰ نے یہ حساب ان سے رکھا۔راستہ میں اللہ تعالیٰ نے دس روپے بھیج دئے۔واپس آکر فرمایا میں تجارت کر آیا ہوں اب سب چیزیں منگوالو۔اللہ کی راہ میں دینے سے مال گھٹتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے۔“ انعامات خداوند کریم از حضرت پیر افتخار احمد ، صفحہ : 221 222)