خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 491
خطبات طاہر جلد 17 491 خطبہ جمعہ 17 جولائی 1998ء کے کہتا ہوں فلاں کی اماں دروازہ کھولو۔اسی وقت وہ دروازہ کھولتی ہے اور یہ بات میں انگریزی میں کہہ رہا ہوتا ہوں۔تو بڑے بڑے دلچسپ انسان تھے جو اپنے اپنے رنگ میں ایک مثال تھے اور انہی مثالوں کی یہ خیر ہے کہ ان کی اولا د بھی اسی طرح نیکیوں میں حصہ پارہی ہے۔نیکیوں کے متعلق یا درکھیں کہ یہ ضائع نہیں ہوا کرتیں ، ان معنوں میں بھی ضائع نہیں ہوا کرتیں کہ گویا ایک ہی نسل تک محدود رہ جائیں۔نیکیاں نسلاً بعد نسل چلتی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے یہ جو وعدہ فرمایا ہے کہ میں بڑھا تا ہوں اس سے ہرگز یہ مراد ہیں کہ اس شخص کے اموال کو برکت دیتا ہوں یا اس کی نیکیوں کو بڑھاتا ہوں۔مراد یہ ہے کہ اتنا بڑھاتا ہوں کہ نسلاً بعد نسل چلتی چلی جاتی ہیں۔پس ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کی صورت میں ایسی مثالیں بکثرت دیکھی ہیں اتنی کہ ان کا بیان ممکن نہیں۔اپنے اپنے رنگ میں فقیر راہ مولا تھے اور ان کے انفاق کا بھی اپنا اپنا رنگ تھا لیکن ان میں سے کسی ایک میں بھی ریا کاری نہیں تھی بلکہ حتی المقدور کوشش کرتے تھے کہ اپنی نیکیوں کو چھپالیں۔پس یہ ایک ایسا گر ہے جس کو جماعت کو سیکھنا چاہئے اور پلے باندھنا چاہئے کیونکہ ریا کاری سے بچیں گے اور بخل سے بچیں گے تو نہ صرف اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی زندگی میں کامیاب فرمائے گا بلکہ آپ اپنی نسلوں کی زندگی میں بھی مسلسل ان نیکیوں کو جاری دیکھیں گے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کا ایک ایسا سلوک دیکھیں گے جو کوثر کی طرح کبھی بھی ختم نہیں ہوتا۔اس قسم کے بزرگوں میں سے ایک حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی کے صاحبزادہ حضرت صاحبزادہ پیر افتخار احمد صاحب بھی تھے۔حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی وہ بزرگ ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آپ کے دعوی سے پہلے ہی پہچان لیا تھا۔انہوں نے آپ کو مخاطب کر کے کہا تھا: تم مسیحا بنو خدا کے لئے “ انعامات خدا وند کریم از حضرت پیر افتخار احمد صفحه : 7) کاش تم مسیحا بن جاؤ کیونکہ تم میں میں مسیحائی کی علامات دیکھ رہا ہوں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ مسیحائی کی علامات جو آپ اپنے نفس سے بھی چھپاتے تھے خدا نے اپنے ایک بزرگ بندے پر ان صفات کو روشن کر دیا اور اسی مضمون کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آگے