خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 436
خطبات طاہر جلد 17 436 خطبہ جمعہ 26 جون 1998ء ہو جایا کرتا تھا۔اب تو حالات بدل چکے ہیں لیکن ایک ایسے طریق پر بدلے ہیں جس سے دل کو دکھ پہنچتا ہے۔ظاہری طور پر جماعت کے بہت سے لوگ امیر ہورہے ہیں اور دل کے غریب ہورہے ہیں۔آنحضرت صلی ہی تم نے ایک موقع پر فرمایا کہ: خبر دار فقر دل کا فقر ہوا کرتا ہے۔“ (الجزء الرابع من المستدرك على صحيحين في الحديث، کتاب الرقاق، صفحہ 327) غربت وہ ہے جو دل پر ٹوٹی ہے۔ورنہ اگر انسان کے پاس خالی مال ہو اور وہ بظا ہر سخی ہو تو اس کا کچھ بھی فائدہ نہیں کیونکہ دل کا غریب ہونا اس کے خرچ کی راہ میں حائل ہوا کرتا ہے وہ للہ نہیں رہتا۔دکھاوے کے لئے تو کر سکتا ہے مگر اللہ کی خاطر نہیں کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سب سے زیادہ پیار سے حضرت حکیم نورالدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جو بعد میں خلیفہ اسیح الاوّل ہوئے، ان کا ذکر فرمایا ہے۔اتنی محبت، اتنے پیار سے کہ رشک آتا ہے اس کو سن کر۔جس پر خدا کا مسیح رشک کر رہا ہو اس پہ ہم کیوں رشک نہ کریں۔بہت لمبی عبارتیں ہیں ان میں سے میں نے صرف ایک چھوٹی سی عبارت چنی ہے تاکہ نمونہ آپ کو بتا سکوں کہ انفاق فی سبیل اللہ کہتے کس کو ہیں۔فرماتے ہیں: اگر میں اجازت دیتا یعنی مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر ہے۔”اگر میں اجازت دیتا تو وہ سب کچھ اس راہ میں فدا کر کے اپنی روحانی رفاقت کی طرح جسمانی رفاقت اور ہر دم صحبت میں رہنے کا حق ادا کرتے۔“ نی خلیفہ آس الاوان و اگر میں جازت دیتا۔صاف ظاہر ہے کہ حضرت خلیفتہ اسی الا ان کی راہ میں آپ کا اجازت نہ دینا روک بنا ہوا تھا۔اور ایک اور سلیقہ ہمیں حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے ادب کا یہ سمجھ آیا کہ جانتے تھے کہ خدا کی راہ میں سب کچھ خرچ کر دینا ایک دل کی تمنا ہے مگر امام کی اجازت کے بغیر نہیں کرنا۔بہت بڑا مرتبہ ہے۔خواہش کے باوجود خرچ نہیں کر رہے یعنی وہ سب کچھ جو خرچ کیا ہے وہ بھی بہت ہے لیکن جو نہیں کیا اور اس کی تمنا موجود ہے اس کی راہ میں صرف اجازت روک ہے۔پس امام کا ادب اور اس کی اجازت آپ کے نزدیک ایک بہت اہم مقام رکھتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ان کے بعض خطوط کی چند سطر میں بطور نمونہ ناظرین کو دکھلاتا ہوں۔“