خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 435 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 435

خطبات طاہر جلد 17 435 خطبہ جمعہ 26 جون 1998ء ایک قسم کے لوگ ہیں جنہیں لوگ اپنے گردو پیش میں دیکھ سکتے ہیں۔ایسے لوگ ہیں جنہوں نے بہت کمائیاں کر کے بہت جوڑا اور پھر خیال آیا کہ اس کو تجارت میں لگالیں اور اکثر صورتوں میں ساری تجارتیں برباد ہو ئیں جو کچھ جمع شدہ پونچی تھی وہ ہاتھ سے جاتی رہی اور کچھ بھی ہاتھ نہ آیا۔سوفرشتوں کی یہ دعا بے معنی نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں اس کو ہلاکت دے اور اس کا مال و متاع بر باد کر۔تو اس روک رکھنے کا کیا فائدہ جو کسی کام بھی نہ آئے۔اس ضمن میں ایک اور حدیث بخاری کتاب الزکوۃ سے لی گئی ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ : ایک آدمی آنحضرت صلی یتیم کے پاس آیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی ایتم ثواب کے لحاظ سے سب سے بڑا صدقہ کیا ہے؟ آپ صلی شما ای ایم نے فرمایا سب سے بڑا صدقہ یہ ہے کہ تو اس حالت میں صدقہ کرے کہ تو تندرست ہو اور مال کی ضرورت اور حرص رکھتا ہو اور غربت سے ڈرتا ہواور خوشحالی چاہتا ہو۔(اس تنگی ترشی کی حالت میں اگر تو خدا کی راہ میں کچھ خرچ کرے گا تو یہ سب سے اچھا خرچ کرنا ہے۔فرمایا : ) صدقہ اور خیرات میں دیر نہ کر کہیں ایسا نہ ہو کہ جب جان حلق تک پہنچ جائے تو تو کہے کہ فلاں کو اتنا دے دو اور فلاں کو اتنا دے دو حالانکہ وہ مال اب تیرا نہیں رہا وہ تو تیرے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔“ (صحیح البخاری کتاب الزكاة، باب فضل صدقة الشحيح الصحيح ،حدیث نمبر :1419) تو یہ لوگ اس تنبیہ کو خوب پیش نظر رکھیں۔جتنا مرضی جوڑیں، جو چاہیں کریں ایک وقت آ جانا ہے کہ جان حلق کو پہنچے گی۔پھر جان حلق کو پہنچے گی تو پھر یہ وصیتیں کہ فلاں کو اتنا دے دینا، فلاں رشتہ دار کواتنا دینا، فلاں بیٹے کو اتنا دینا ، بیٹی کو اتنا دینا، کسی کام نہیں آئیں گی۔اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول ملائی کہ تم فرماتے ہیں کہ وہ اس وقت تمہارا رہا ہی نہیں۔جب جان حلق کو پہنچ جائے تو تم مالک ہی نہیں رہتے ، تو یونہی بانٹتے پھرتے ہو، کیا مقصد ہے اس کا ؟ کوئی بھی فائدہ نہیں ہوگا۔نہ تمہیں ہوگا نہ ان کو جن کو تم گو یا خدا کا مال بے دھڑک تقسیم کر رہے ہو جو تمہارا رہا ہی نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے بعض صحابہ کی مثال پیش فرماتے ہیں جن کا مسلک بالکل مختلف تھا۔اگر چہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں مالی تنگی کے واقعات بھی ملتے ہیں مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ جماعت ویسے ہی بہت غریب تھی اور اس غربت کی وجہ سے معمولی پیسہ پیسہ ادا کرنا بھی مشکل