خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 426
خطبات طاہر جلد 17 426 خطبہ جمعہ 19 جون 1998ء کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ہدایات پر عمل کروانے میں یہ محبت ضروری تھی اور جب اس کلاس میں آپ قرآن کریم کو پڑھیں گے تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اصل مقام ظاہر ہوگا۔کتنے عظیم الشان معلم تھے۔آپ فرماتے ہیں آج کل دنیا کا تو یہ حال ہے کہ: قرآن شریف میں کئی ہزار حکم ہیں۔( اب دیکھیں سات سو اور پانچ سو کی بات ختم ہوگئی۔فرماتے ہیں : ) کئی ہزار حکم ہیں ان کی پابندی نہیں کی جاتی۔ادنی ادنی سی باتوں میں خلاف ورزی کر لی جاتی ہے۔یہاں تک دیکھا جاتا ہے کہ بعض جھوٹ تو دکاندار بولتے ہیں اور بعض مصالحہ دار جھوٹ بولتے ہیں۔بعض جھوٹ تو دکاندار بولتے ہیں لیکن مصالحہ لگانا بھی ایک خاص کام ہے اور بعض دکاندار پھر مصالحے لگا لگا کے جھوٹ بولتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ نے اس کو رجس کے ساتھ رکھا ہے۔اب کوئی گندی چیز ہو، ناپاک چیز ہو اس کو جتنے مرضی مصالحے لگا لیں وہ کھا تو نہیں سکتے آپ۔اگر پتا ہو کہ گند ہے تو گندہی رہے گا۔مصالحے لگانے سے وہ گند صاف نہیں ہو جائے گا۔یہ پرانے زمانے کے ہمارے حکیموں کا طریقہ تھا کہ کوئی دوائی جو انتہائی بد مزا ہو اس کے ساتھ گلقند ملا دیا کرتے تھے، میٹھا ڈال دیتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اب کوئی مزے لے لے کے کھائے گا، وہ اپنی جہالت کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں۔حالانکہ سیدھی بات یہ ہے کہ اگر وہ دوا تلخ ہے تو ایک دفعہ کھاؤ، پانی پیو، قصہ صاف کرو۔وہ میٹھا ملا کے اس کو آدھے گھنٹے میں ختم کرنا یہ کون سی عقل کی بات ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایک لطیفہ سنایا کرتے تھے اور وہ اس موقع پر ہمیشہ مجھے یاد آجاتا ہے۔میں کئی دفعہ سنا چکا ہوں لیکن پرانے بزرگوں کی پیاری پیاری باتیں یا درکھنا اچھی بات ہے۔بار بار جب دہرائی جائیں تو ان کے لئے دعا کی بھی تحریک ہوتی ہے۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ ایک میرے ساتھی تھے وہ کھانا الگ سا چھپا کے کھایا کرتے تھے حالانکہ بہت بااخلاق آدمی تھے۔تو میں نے کہا دیکھوں تو سہی کیا بات ہے تو میں اچانک گیا تو ان کی چپڑی ہوئی روٹی تھی۔میں اٹھا کے ایک لقمہ کھانے لگا تو کہا آہاں ہاں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔میں نے آپ کو یہ روٹی کھانے نہیں دینی۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اتنے ہی زیادہ شرمندہ ہوتے جائیں اور اتنا ہی اصرار بڑھتا جائے کہ ایک لقمہ تو میں کھالوں۔وہ کہیں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور سارا کھانا ایک طرف کر دیا۔آخر ان کو خیال