خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 425 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 425

خطبات طاہر جلد 17 425 خطبہ جمعہ 19 جون 1998ء اور بکثرت لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ اگر چہ ہماری اپنی تعلیم زیادہ نہیں تھی مگر قرآن کریم کی کلاس میں بیٹھنے کا موقع ملا اور ہم نے ایک نئی زندگی پالی ہے۔اب یہی کتاب ایک عام کتاب نہیں ہے جو اسے پڑھتے وقت مشکل ہو ، جا گنا مشکل رہے اس کو تو پڑھنے کے ساتھ ساتھ ہی تمام خوابیدہ جذبات اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور قرآن کی تائید میں اور اس کی حکمتوں کی تائید میں فطرت کا لفظ لفظ بولتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی جو قرآن کی تعریفیں ہیں اگر آپ ان کو سمجھیں بھی نہیں تو حیرت سے دیکھیں گے اور آپ کی بوریت میں ذرا بھی فرق نہیں آئے گا۔آپ کہیں گے یہ کوئی عارف باللہ آدمی ہے اس کو مزا آرہا ہوگا مگر قرآن کریم کا مزا اٹھانے کے لئے جو بڑے بڑے مرتبہ اور مقام کی ضرورت ہے وہ ہمیں نصیب ہی نہیں حالانکہ کسی بڑے مرتبہ اور مقام کی ضرورت نہیں، دین العجائز کی ضرورت ہے۔عجز اور انکساری کے ساتھ قرآن کریم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کی ضرورت ہے، اپنا سر جھکا دیں اور غور سے پڑھیں اور آیات کے تسلسل پر غور کریں تو حیران رہ جائیں گے کہ قرآن کریم کی آیات ایک دوسرے سے اس طرح منسلک ہیں کہ پہلے انسان کے وہم میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ کس طرح تعلیم مسلسل آگے بڑھ رہی ہے اور ایک بات اگلی بات سے منسلک ہوتی چلی جارہی ہے یہ ڈوریاں ہیں جو آپس میں بیٹی جارہی ہیں۔اور اس کا ایک علاج میں آپ کے سامنے یہ رکھ رہا ہوں کہ اگر آپ کو MTA کے ذریعہ سناممکن نہیں تو غالباً یہاں امریکہ میں ان قرآن کریم کی کلاسز کی ویڈیوریکارڈنگ ہو چکی ہوگی۔اگر ہو چکی ہے تو لازماً گھروں کو مہیا کرنی چاہئے۔یہ بھی کرتے ہیں اور کر سکتے ہیں کہ کسی ایک وقت میں ان ویڈیوز کو چلا دیا جائے مگر ہر ایک کے اوقات الگ الگ ہیں اور ضروری نہیں کہ ہر روز اس وقت وہ گھر ہی ہو سارا خاندان بھی کہیں سفر پر جاسکتا ہے۔اس لئے لازم ہے کہ ان کا ریکارڈ اپنے گھروں میں رکھیں اور ترتیب کے ساتھ آپ سب لوگ مل جل کر بیٹھیں اور سننا شروع کریں۔اگر دس سبق بھی آپ اس طرح پڑھ لیں گے تو پھر آپ کے لئے ان سبقوں سے الگ رہنا ممکن ہی نہیں رہے گا۔طلب کریں گے کہ کب ہم اگلا سبق شروع کریں مگر پڑھیں اکٹھے اور بچوں کو ساتھ شامل کر کے پڑھیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو قرآن کریم کے متعلق نورانی دعوت فرمایا اور مزے مزے کے کھانے بتائے وہ آج بھی مل سکتے ہیں،صرف پڑھنے کا طریقہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں جو قرآن کریم کی محبت ڈالی ہے اس دور میں میں سمجھتا ہوں